وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے مقرر، تنخواہوں اور پینشن میں10 فیصد اضافہ متوقع

Jun 11, 2021 | 13:14:PM
وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے مقرر، تنخواہوں اور پینشن میں10 فیصد  اضافہ متوقع

(24 نیوز)  2022-2021کے مالی سال کا  بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائےگا۔آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی دستاویز  کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 900 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، وفاقی وزارتوں کو 672 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا۔بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن10 فیصد بڑھانے پر اتفاق، دس فیصد اضافے کی تجویز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث ہے۔

دستاویز  کے مطابق مقرر کردہ ترقیاتی بجٹ سے ایوی ایشن ڈویژن کیلئے 4 ارب 29 کروڑ اور کابینہ ڈویژن کو56ارب2کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا،موسمیاتی تبدیلی کا ترقیاتی بجٹ 14ارب روپے مختص کر دیا،کامرس ڈویژن کو 30 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا،وزارت تعلیم و تربیت کیلئے9 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے،وزارت خزانہ ترقیاتی کاموں پر94 ارب روپے خرچ کرے گی،ہائر ایجوکیشن کمیشن کو 37 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا،ہاؤسنگ و تعمیرات کیلئے 14 ارب94 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ مقرر،وزارت انسانی حقوق کوترقیاتی بجٹ کی مد میں22 کروڑ ملیں گے،وزارت صنعت و پیداوار 3 ارب کا ترقیاتی بجٹ خرچ کرے گی،وزارت اطلاعات کا ترقیاتی بجٹ 1 ارب 84 کروڑ روپے ہوگا،وزارت آئی ٹی 8 ارب روپے ترقیاتی کاموں پرخرچ کرے گی جبکہ بین الصوبائی رابطہ کیلئے 2 ارب 56 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔دستاویز کےمطابق وزارت داخلہ کیلئے 22 ارب روپے کےترقیاتی بجٹ کی تجویز  دی گئی ہے۔امورکشمیر اورگلگت بلتستان کیلئے61ارب کا ترقیاتی بجٹ،وزارت قانون و انصاف کے لیے 6 ارب کا ترقیاتی بجٹ،امور جہازرانی و میری ٹائم کیلئے 4 ارب  95 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔وزارت انسداد منشیات کیلئے 33 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ اور وزارت غذائی تحفظ کے لیے 12 ارب کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز ہے۔نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22ارب82 کروڑ  کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ، قومی ورثہ و ثقافت کیلئے 4 کروڑ 59 لاکھ کا ترقیاتی بجٹ کی تجویز،پٹرولیم ڈویژن کو 3 ارب 7 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا،وزارت منصوبہ بندی کے لیے  99 ارب 25 کروڑ مختص کئے گیے ہیں، سماجی تحفظ کے لیے 11 کروڑ 89 لاکھ کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے،ریلوے ڈویژن کیلئے 30 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ہو گا،سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے 8 ارب 11 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، دستایوز میں آبی وسائل کے لیے 110 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ، این ایچ اے کیلئے 113 ارب 95 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ جبکہ پیپکو کے لئے 53 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ ہو گا۔ اس کے علاوہ دیگر ضروریات و ایمرجنسی کیلئے 60 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

اس کےعلاوہ وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کا حتمی فیصلہ  بجٹ تقریرمیں ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا یا نہیں، اس کا حتمی فیصلہ بجٹ پیش کیے جانے سے پہلے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہوگا۔توقع ہے کہ تنخواہوں میں مجموعی طور پر 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا جس میں 10 سے 15 فیصد بنیادی تنخواہ اضافہ کیا جائے گا ،باقی ایڈہاک ریلیف کی مد میں دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: مالی سال 2021،2022 کا بجٹ آج پیش