ایک کہتا ہے آزاد عدلیہ چاہیے، دوسرا کہتا ہے آئین کے تابع عدلیہ چاہیے: سپریم کورٹ

May 10, 2022 | 14:36:PM
 ایک کہتا ہے آزاد عدلیہ چاہیے، دوسرا کہتا ہے آئین کے تابع عدلیہ چاہیے: سپریم کورٹ
کیپشن: سپریم کورٹ(فائل فوٹو)
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)اسلام آباد سپریم کورٹ  میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ  ایک کہتا ہے آزاد عدلیہ چاہیے، دوسرا کہتا ہے آئین کے تابع عدلیہ چاہیے، آئین کے تابع پارلیمان، ایگزیکٹو اور عدلیہ ہونی چاہیے۔

 صدارتی ریفرنس پر سماعت کےدوران بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یوٹیلیٹی بلز ادا نہ کرنے والا بھی رکنیت کا اہل نہیں ہوتا، اگر آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کی مدت کا تعین نہ ہو تو نااہلی تاحیات ہوگی،اس پر جسٹس جمال مندوخیل  نے کہا کہ کوئی امیدوار آئندہ الیکشن سے پہلے بل ادا کردے تو کیا تب بھی نااہل ہوگا؟بل ادا کرنے کے بعد نااہلی ختم ہو جائے گی، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ہی نااہلی تاحیات ہے۔اس موقع پرجسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ جب تک نااہلی کا ڈکلیریشن عدالت ختم نہ کرے نااہلی برقرار رہے گی، یوٹیلیٹی بلزکی عدم ادائیگی پرنااہلی تاحیات نہیں ہوسکتی،جسٹس مظہر عالم خیل نے کہا کہ آپ کہتےہیں منحرف ارکان کو تاحیات نااہل کریں، میری نظرمیں آرٹیکل 63 (1) جی کی خلاف ورزی زیادہ سنگین جرم ہے۔آرٹیکل 63 (1) جی عدلیہ، فوج کی تضحیک اور نظریہ پاکستان سے متعلق ہے۔