سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، مزید اموات، سندھ میں بیماریاں پھوٹ پڑیں

Sep 09, 2022 | 09:40:AM
منچھر جھیل , سیہون ,خیرپور ناتھن شاہ , دریائے سندھ ,بلوچستان,24 نیوز
کیپشن: منچھر جھیل میں سیلاب
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز ) سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ،منچھر جھیل میں پانی کا دباؤ کم نہ ہوا، بلوچستان میں بارشوں، سیلاب سے مزید اموات، سندھ میں بیماریاں پھوٹ پڑیں ۔

منچھر جھیل میں منہ زور پانی کا دباؤ برقرار ہے،دباؤ کم کرنے کیلیئے کرمپور بچاؤ بند کو بھی کٹ لگا دیا گیا،منچھر جھیل کا پانی دریائے سندھ میں داخل ہونے لگا،پانی کے باعث سیہون کا دادو اور لاڑکانہ سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ،کٹ لگنے کے بعد انڈس ہائی وے پر پل گر گیا۔سکھر سے حیدرآباد سپر ہائی وے پر بھی دباؤ بڑھ گیا ۔

خیرپور ناتھن شاہ میں سیلاب سے ہر طرف تباہی،2 خواتین سمیت 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔نواحی گاؤں گلن لانڈر میں سانپ کے کاٹنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا ۔ گاؤں قومی چارو میں گھر کی چھت گرنے سے 2 افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے،چوہڑجمالی میں سیلابی پانی مزید دیہاتوں کوبہالےگیا،متعددگاؤں زیرآب،متاثرین کھلےآسمان تلے زندگی گزارنے پرمجبور ہیں ۔

اسی طرح دریائے سندھ میں طغیانی برقرا ر ہے، قمبر شہدادکوٹ سیلابی ریلے اور بارشوں کے باعث تباہی کا شکار ہیں ،سیلابی ریلوں سے سیکڑوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ کئی فٹ پانی کے باعث گاڑیوں اور بسوں کی جگہ کشتیوں نے لے لی ہے۔سیلابی پانی میں گھرے متاثرین اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

سندھ میں سیلاب متاثرین کی مشکلات میں  بھی اضافہ ہوگیا ہے،سیلابی ریلوں نے بڑوں سے سر کی چھت چھین لی تو بچوں کو طرح طرح کی بیماریوں نے گھیر لیا،سیلابی پانی کی وجہ سے بیمار بچوں سے اسپتال کے وارڈز بھر گئے،بچوں کو ڈائریا ،ملیریا ،ٹائی فائیڈ ،سکن الرجی اور گلے کی انفیکشن کا سامنا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید چاراموات کی تصدیق ہوگئی، صوبے میں جان بحق ہونے والے افراد کی تعداد 267 تک پہنچ گئی۔صوبے بھر میں مجموعی طور پر 64 ہزار 385 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 1500 کلومیٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

پراونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے حادثات میں مزید 4 اموات رپورٹ ہوئیں ہیں۔بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 267 ہوگئی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 126 مرد 59 خواتین اور82 بچے شامل ہیں۔

ضرور پڑھیں :خلیل الرحمٰن قمر کی خاتون کے ساتھ فون کال لیک ، سوشل میڈیا پر تہلکہ مچ گیا

سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ، جبکہ لسبیلہ اور ژوب سے 21-21 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ صوبے بھر میں بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں 166 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 64 ہزار385 مکانات نقصان کا شکار ہوئے، دو لاکھ 15 ہزار 936 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں۔اب تک مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا، صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر گئے۔