منصوبے ہمارے تختیاں بزدار کی۔ن لیگ کا پنجاب حکومت کیخلاف وائٹ پیپر

Sep 02, 2021 | 20:10:PM
منصوبے ہمارے تختیاں بزدار کی۔ن لیگ کا پنجاب حکومت کیخلاف وائٹ پیپر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز)مسلم لیگ(ن) پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری نے پنجاب حکومت کی تین سالہ کارکردگی کےخلاف وائٹ پیپر جاری کردیا اور کہا ہے کہ والٹن ائیر پورٹ کو بند کر کے عمران خان اپنے دوستوں کو نوازنا چاہتے ہیں ، ملک کا سب سے بڑا قبضہ مافیا کا سرغنہ عمران خان نیازی ہے،ہم والٹن ائیر پورٹ پر چار سو ارب روپے کا ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے ،شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کی ڈیوٹی شریف فیملی کو سزا دلوانے کی ہے اور وہ جو ممکنہ کام کرسکتے کررہے ہیں، جتنے مرضی کیسز بنا لیں سیاسی انتقام کے نام پر احتساب کو پہلے بھی بھگتا ہے ا ب بھی بھگت لیں گے،احتساب کی فلم اعلی عدالتوں میں بری طرح پٹی ہے،چیلنج کرتے ہیں پنجاب میںکوئی ایک بھی ایسی یونیورسٹی نہیں جس کی ایک اینٹ حکومت نے لگائی ہو،یہ راجہ گدھ ہیں ،منصوبے و تختیاں چوری اور تصاویریں کھنچواتے ہیں،مئی دو ہزار اکیس میں عمران خان نے کہا مہنگائی سے نیند نہیں آتی لیکن اگست میں کہاکہ ملک میں مہنگائی نہیں ہے۔
 ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ اور پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری نے ماڈل ٹاﺅن سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سید علی گیلانی کی وفات پر انتہائی دکھ ہے ،وہ پوری جدوجہد کشمیر تھے ،سید علی گیلانی کے انتقال پر نہ صرف کشمیری بلکہ پاکستانیوں کو بھی رنج ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنااللہ خان کے خلاف چیئرمین نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کیس کی منظوری دی ، آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس سب سے پہلے عمران خان پر ہونا چاہئے ،تین سو کنال گھر پر دو لاکھ روپے ٹیکس کیسے دیتے ہیں ؟۔ شہبازشریف اور حمزہ شہباز کیسز کے ججز کا ٹرانسفر ہوا جو پہلی بار نہیں ہوا ،پہلے بھی وٹس ایپ پر ٹرانسفر ہوئی،شہزاد اکبر اور فروغ نسیم کی ڈیوٹی صرف شریف فیملی کو سزا دلوانے کےلئے ہے او روہ جو ممکنہ کام کرسکتے وہ کررہے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں گینگ ریپ معمولی بات ہو گئی ہے کیسز پر نوٹس اور بات ہوتی ہے عمل کچھ نہیں،پی آئی سی ہسپتال میں مریضوں کو ایکسپائرڈ سٹنٹس ڈالے گئے یہی وہ کارکردگی اور کارنامے ہیںجس پر شادیانے بجارہے ہیں، غربت سے جو لوگ مر رہے ہیں کیا ان کی محرومی کا جشن منایا گیا،جس کے پاس کچن چلانے کےلئے پیسے نہیں ان کی محرومیوں کا جشن منایاگیا۔
 عظمیٰ بخاری نے کہاتین سالوں میں پنجاب کے چھ آئی ،چار چیف سیکرٹری تبدیل،درجنوں محکموں کے سیکرٹری پانچ مرتبہ سے زائد تبدیل ہوئے،بزدار حکومت نے شہبازشریف دور کے بنائے کالجز پر یونیورسٹیوں کی تختیاں لگائیں،پنجاب حکومت نے شہداءکے ورثا کے لئے 15کروڑ مختص کی لیکن ایک پائی بھی نہ دی،خواجہ سراﺅں کےلئے 20 کروڑ مختص کئے لیکن 75فیصد رقم خرچ نہیں کی،رمضان بازاروں میں 82کروڑ 18لاکھ کے اضافی اخراجات کیے،رواں سال پنجاب حکومت نے دو کھرب 48ارب کے اضافی اخراجات کئے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا پنجاب میں سرکاری سکولوں میں 88ہزار 885اساتذہ کی اسامیاں خالی ہیں۔تین سالوں میں ہزاروں خالی اسامیوں پر بھرتیوں کےلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔پنجاب حکومت سپلیمنٹری گرانٹ نہ دینے کا دعویٰ بھی جھوٹ ثابت ہوا ہے۔محکمہ داخلہ پنجاب کو 2ارب اور وزیراعلیٰ آفس نے 21کروڑ 14لاکھ کے اضافی اخراجات کیے۔بزدار حکومت اس سال اپنا تاریخی ترقیات کا بجٹ دے کر بھی مسلم لیگ ن کا مقابلہ نہیں کرسکی۔اس سال بزدار حکومت نے ترقیاتی بجٹ 560ارب کا دیا جبکہ مسلم لیگ(ن) کا آخری بجٹ 2017-18میں 635ارج کا ترقیاتی بجٹ دیا جو استعمال بھی ہوا۔عثمان بزدار کے حکم پر تحصیل کوہ سلیمان اور تحصیل تونسہ میں بدوبست اراضی کا حکمنامہ جاری کیا گیا لیکن پھر پرسرار طور پر محافظ خانہ کو آگ لگ گئی جس کی بعد میں انکوائری اور اس میں بھی تضادات ہیں۔پنجاب حکومت نے 248ارب کے ضمنی اخراجات کیے۔وی آئی پی فلائٹ پر مختص بجٹ سے ہٹ کر ایک کروڑ 50لاکھ روپے اور بلٹ پروف گاڑی کی خریداری کےلئے دو کروڑ پچاس لاکھ روپے خرچ کئے۔جبکہ سیکرٹ فنڈ کےلئے مختص بجٹ سے ہٹ کر ایک کروڑ روپے اضافی خرچ کیے گئے۔ایئرکرافٹ کی خریداری کےلئے ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے خرچ ہوئے۔پنجاب اسمبلی کو چار کروڑ روپے اضافی دیئے گئے۔چولستان ریلی کو کامیاب بنانے کےلئے پچاس لاکھ روپے خرچ ہوئے۔جنوبی پنجاب میں افسروں کی رہائشگاہوں کےلئے دو ارب آٹھ کروڑ ستر لاکھ روپے کی رقم خرچ کی گئی۔ایک اعلیٰ افسر کی رہائشگاہ کےلئے جنریٹر خریدنے کےلئے ایک کروڑ 12لاکھ روپے خرچ کیے۔انہوں نے مزید کہا دستاویز کے مطابق وزیراعلیٰ آفس نے اپنے بجٹ 35فیصد زائد رقم خرچ کی۔وزرا اور مشیروں کےلئے مختص بجٹ کے مقابلے میں 30کروڑ دو لاکھ روپے کا بجٹ خرچ کیا گیا۔وزرا نے پروٹوکول اور تنخواہوں کی مد میں دو کروڑ 97لاکھ روپے وصول کئے۔عثمان بزدار کے تین سال صرف افسروں کے تبادلوں کے ریکارڈ قائم کیے گئے۔پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے اتنے بڑے پیمانے پر افسروں کی تبادلے کئے۔ ۔مسلم لیگ ن ایک افسر کو دو سے تین سال ایک عہدے پر کام کرنے کا موقع دیتی تھی لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے تین سالوں میں چھ آئی جی پنجاب ،چار چیف سیکرٹری اور چھ کمشنر لاہور تبدیل کیے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے عہدے پر چھ افسر تبدیل ہوئے،سیکرٹری سپیشلائز ہیلتھ کیئر چار تبدیل ہوئے،محکمہ پرائمری ہیلتھ کے بھی چار سیکرٹری تبدیل،محکمہ سکولز ایجوکیشن کے بھی چار سیکرٹری تبدیل ہوئے۔محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے 13سیکرٹری تبدیل ہو چکے ہیں تاحال ایک دوسرے افسر کو ایڈیشنل چارج دیا گیا ہے۔محکمہ لائیو سٹاک کے چار سیکرٹری،جبکہ لاہور کے چھ ڈی سی تبدیل ہو چکے ساتواں ڈی سی دو روز قبل تبدیل ہوا ہے۔جبکہ مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنر اور اسٹنٹ کمشنر لاتعداد مرتبہ تبدیل ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا پنجاب میں گیارہ سو ہیلتھ ورکرز کورونا کا شکار ہوئے۔جن میں 625ڈاکٹر،307پیرا میڈیکل سٹاف اور 168نرسز کورونا کا شکار ہوئی۔طبی عملے کو حفاظتی کٹس اور این 95ماسک نہ مل سکے۔پنجاب حکومت نے مئی 2021کو رونا ویکسین خریدنے کا فیصلہ کیا ۔جس کےلئے دو کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا ایک کمپنی نے زائد بولی دوسری کمپنی نے چھ ارب روپے دس لاکھ ڈوز کے مانگے لیکن بزدار حکومت نے ویکسین کی خریداری کےلئے صرف ڈیڑھ ارب روپے رکھے۔لاہور میں سروسز ہسپتال،جنرل ،میو ہسپتال ،جناح ہسپتال اور مزنگ ہسپتاک میں پندرہ سو ویکسین غائب ہوئی ،جن کی تحقیقات ابھی تک نہیں ہوسکی۔عثمان بزدار حکومت تین سالوں میں 21یونیورسٹیاں بنانے کا فلاپ ڈرامہ ہوگیا ہے۔کسی ایک یونیورسٹی کی نئی بلڈنگ تعمیر نہیں کی پہلے سے تعمیر شدہ کالجز کو یونیورسٹیز کا درجہ دیا گیا۔گورنمنٹ کالج ساہیوال پر یونیورسٹی کی تختی لگائی گئی۔ملتان ایمرسن کالج پر یونیورسٹی کی تختی لگائی گئی۔بابا گورونانک یونیورسٹی نوازشریف نے بنانے کا اعلان کیا اور منصوبے کا افتتاح بھی کیا اور رقم بھی دی۔جھنگ کالج پر یونیورسٹی کی تختی لگائی۔میانوالی میں سرگودھا یونیورسٹی کا سب کیمپس تھا جس کو میانوالی یونیورسٹی کا نام دے دیا گیا۔مری میں کوہسار کالج پر یونیورسٹی کی تختی لگائی گئی۔ فاطمہ جناح یونیورسٹی مسلم لیگ(ن) نے 1999میں بنائی۔چکوال میں شہبازشریف نے یو ای ٹی کا سب کیمپس بنایا جس پر اب یونیورسٹی آف چکوال کی تختی لگادی گئی ہے۔پنجاب میں کرپشن،مالی بد انتظامی 56 ارب 46 کروڑ کا نقصان ہوا،اورنج لائن ٹرین سمیت دیگر منصوبوں میں 268ارب روپے کے اخراجات کا ریکارڈ غائب کردیامردہ پنشنروں کا کروڑ کی ادائیگیاں پکڑی گئیں،گھوسٹ ملازمین ،جعلی شناختی کارڈز پر ادائیگیوں کا بھی انکشاف ہوا،وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے قرآن بورڈ تک میں بلا اشتہار غیر قانونی بھرتیاں کی۔ محکمہ پولیس اور جیل خانہ جات میں وردیوں کی کی خریدرایوں میں کرپشن،ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر سے اربوں کی غیر قانونی ٹھیکے دئیے گئے۔سنٹرل پنجاب میں اٹک سے اوکاڑہ تک کی ضلعی ہیلتھ اتھارٹیوں میں صوبائی خزانے کے 56 ارب 46 کروڑ روپے کرپشن،مالی بدانتظامی،فراڈکیا گیا۔پنجاب کے غیر ترقیاتی اخراجات کے بارے میں آڈٹ رپورٹ 21-2020 صرف 12 فیصد (194 ارب روپے)کی چھان بین کرسکی ہے جن میں سے 87 ارب کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا ۔محکمہ خزانہ نے صوبائی ملازمین کے جی پی فنڈ اور پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق اربوں روپے کا ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا۔محکمہ زراعت میں 5 ارب روپے کے اخراجات پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے جن میں سے 1 ارب روپے غیر قانونی خریداریوں کی مدمیں ہے۔سیکرٹری زراعت کے دفتر میں 1 کروڑ 31 لاکھ روپے فراڈ اور 5 کروڑ 20 لاکھ 23 کنٹریکٹ افسروں کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کے لئے دیدئیے گئے جن کی واپسی کی کوئی ضمانت نہیں۔محکمہ خوراک میں گندم کے خالی پولی پراپلین اور جیوٹ تھیلوں کی خریداریوں میں 5 ارب 52 کروڑ کے نقصان سمیت 34 ارب روپے کرپشن،اور بند انتظامی کی نذر ہوئے ہیں۔محکمہ ہائر ایجوکیشن کے زیر انتظام پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیہ یونیورسٹی بہالپور تک میں گورنر پنجاب کی منظوری کے بغیر سپیشل تخواہوں،اعزازئیے،اور الاو¿نسز اور دیگر اخراجات میں 6 ارب 31 کروڑ روپے کے غیر قانونی ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔محکمہ داخلہ کے زیر انتظام پولیس اور جیل خانہ جات ڈیپارٹمنٹس میں بھی 21 ارب 46 کروڑ روپے کے اخراجات میرٹ سے کر کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔آلات کی مرمت کے ٹھیکوں اور خریداریوں میں غیر شفافیت اور پیپرا رولز کی خلاف ورزیوں سے 5 ارب 72 کروڑ روپے کا نقصان کیا گیا ہے۔محکمہ اطلاعات میں 93 کروڑ 70 لاکھ روپے کے اخراجات۔ان اعترضات میں پنجاب آرٹ کونسل کے ملازمین کو غیر قانونی الاو¿نسز کی ادائیگی،محکمے میں غیر قانونی بھرتیوں مختلف معاہدوں میں غیر شفافیت شامل ہے۔محکمہ لائیو سٹاک میں ڈی ٹی ایل کے بغیرجانوروں کی ادویات کی خریداریوں،بغیر اشتہار بھرتیوں،سرکاری زمین کے پٹے داروں سے عدم وصولی کے باعث 2 ارب 20 کروڑ سے زائد نقصان کی نشاندہی کی گئی ہے۔محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ میں مجموعی طور پر26 ارب روپے کے قابل اعتراض اخراجات کی نشاندہی ہوئی ہے جن میں سے 11 ارب 67 کروڑ کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا ۔محکمہ سروسز ایندجنرل ایڈمنسٹریشن کے زیر انتظام ڈپٹی کمشنر دفاتر مجموعی طور پر 17 ارب روپے کے اخراجات پر سوالیہ نشان لگا گیا ہے جن میں سے 14 ارب 36 کروڑ کا ریکارڈ چھپا لیا گیا۔رمضان بازاروں کے انتظامات کے ٹھیکوں اور غیر قانونی بھرتیوں سے خزانے کو2 ارب 20 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ نیشنل بنک کی 4 برانچوں باغبانپورہ ،نیو مسلم ٹاو¿ن ،سول سیکریٹریٹ اور علامہ اقبال ٹاو¿ن لاہور میں فوت شدہ پنشنروں کے اکاو¿نٹ میں 3 کروڑ 52 لاکھ روپے منتقل کئے گئے جو واپس صوبائی خزانے میں نہیں آئے۔محکمہ اوقاف کے آڈٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بغیر اشتہار غیر شفاف بھرتیاں کی گئیں جن کے تحت تنخواہوں کی مد میں 23 لاکھ 37 ہزار روپے کے اخراجات غیر قانونی ہیں۔محکمہ مواصلات تعمیرات کے اہلکاروں نے ٹال ٹیکس کے ٹھیکوں کی مد میں 1 ارب 18 کروڑ جبکہ مختلف شہروں کی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسیوں نے ایکوافائر (پانی) کے چارجز کی مد اور کمرشلائزیشن فیس کی مدات میں 1 ارب 9 کروڑ کا نقصان کیا ہے۔آڈیٹر جنرل پاکستان کی سنٹرل پنجاب کے اٹک سے اوکاڑہ تک 19 اضلاع کی صحت اتھارٹیوں کی رپورٹ برائے آڈٹ سال 21-2020 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 20-2019ءکے دوران ان اتھارٹیوں کے کل 31 ارب 68 کروڑ کے اخراجات میں سے 16 ارب 89 کروڑ (53 فیصد) کا آڈٹ کیا گیا جس میں 4 ارب 29 کروڑ(25فیصد) اخراجات کرپشن،غیر قانونی بھرتیوں،ڈیوٹی سے غائب ڈاکٹروں کوتنخواہوں اورسپیشل الاونسز کی ادائیگیوں ،ادویات کی زیادہ ریٹیس پر لوکل خریداریوں سے 1 ارب 55 کروڑ کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔لاہور کی ضلع صحت اتھارٹی کے بارے میں آڈیٹروں نے بتایا ہے کہ 69 کروڑ 50 لاکھ روپے کے اخراجات قابل اعتراض ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جولائی 2019ءسے جون 2020ء کے ریکارڈ میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لاہور کینٹ میں 134 عارضی ملازمین کو 6 ماہ کی تنخواہ کی مد میں 60 لاکھ روپے ادا کئے گئے لیکن جن کو ادائیگیاں کرنے کا دعویٰ کیا گیا نادرا کی ریکارڈ میں ان کی شناختی کارڈز جعلی نکل آئے جبکہ ادئیگیوں کی کلیم واوچرزبھی بوگس ثابت ہوگئے۔اتھارٹی کے حکام کو 26 نومبر 2020ء کو اس سکینڈل سے آگاہ کیا گیا جس پر آڈیٹروں کا بتایا گیا کہ انکوائری کراکے ذمے داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں۔تیرا نا م لیا۔۔سدھارتھ کے بالی وڈ کوئین مادھوری کے ساتھ ڈانس کی ویڈیو وائرل