بھارت جارحیت سے باز نہ آیا، سرحد پر فضائی اڈہ کیوں قائم کررہا ہے؟

Oct 27, 2022 | 10:49:AM
بھارت,پاکستان , گجرات ,دیسا,بی بی سی,24نیوز ,مودی
کیپشن: بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب فضائی اڈہ قائم کرنے کا سنگ بنیاد رکھ دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب فضائی اڈہ قائم کرنے کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔

گذشتہ ہفتے ریاست گجرات میں پاکستان کی سرحد کے نزدیک ’دیسا‘ میں ایک فضائی اڈے کا سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے جسے بھارت  ملک کے فضائی دفاع کے لیے اہم قرار دے رہا ہے۔نیا فضائی اڈہ شمالی گجرات کے بنس کانٹھا ضلع میں واقع ہے اور یہ آئندہ برس دسمبر تک فضائیہ کے لیے پوری طرح تیار ہو گا۔
 بر طانوی خبر رساں ادارے ’’بی بی سی ‘‘کی رپورٹ کے مطابق دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کہتے ہیں کہ  یہ اڈہ ایک تو احتیاطی اقدام کے طور پر بنایا جا رہا ہے۔ دوسرے مودی، انڈیا کی ’فارورڈ پالیسی‘ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ ایک جارحانہ پالیسی دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انڈیا بھی کافی حاوی ہے اور پیچھے رہنے والا نہیں ہے۔ اس میں مودی کا ’براواڈو‘ بھی شامل ہے۔

ضرور پڑھیں :ایران: زیارت گاہ پر فائرنگ میں 15 افراد ہلاک
یہ گجرات کا پانچواں فضائی اڈہ ہے۔ اس کے علاوہ ریاست میں بڑودہ، جام نگر، بھج اور نالیا (کچھ) میں انڈین فضائیہ کے بڑے اڈے ہیں۔ ان میں کچھ اور بھج کے اڈے ڈیسا کی طرح پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع ہیں۔
یہ اڈہ 4519 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ زمین فضائیہ کے پاس پہلے سے تھی اور اس وقت وہاں 20 نگرانی کے ٹاورز بنے ہوئے ہیں جبکہ اس اراضی کے گرد 22 کلومیٹر دیوار بھی بنی ہوئی ہے۔


ماہرین کے مطابق دیسا ایک فارورڈ بیس ہو گا اور نہ صرف پاکستان میں جیکب آباد اور جنوبی علاقوں میں واقع فضائی اڈوں سے کسی حملے کی صورت میں پہلی دفاعی دیوار کا کام کرے گا بلکہ کسی ٹکراؤ کی صورت میں حیدرآباد، کراچی اور سکھر جیسے شہر اس کے حملے کی حدود میں ہوں گے۔ مستقبل میں گجرات یا جنوب مغربی سیکٹر یعنی مہاراشٹر یا اس سے بھی آگے کسی بڑے دہشت گردانہ حملے کی صورت میں اسے پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
یاد رہے اس وقت انڈیا کے پاس 31 فائٹر سکواڈرن موجود ہیں۔ آئندہ دس برس میں ان کی تعداد بڑھا کر 42 سکواڈرنز تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ فضائیہ کی جدت کے ساتھ ساتھ آئندہ برسوں میں مزید فضائی اڈے اور سرحدوں کے نزدیک نئی ہوائی پٹیاں بھی تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔