اپوزیشن کی پارلیمنٹ لاجز پر پولیس کشی کی مذمت، ارکان کی رہائی کا مطالبہ

Mar 10, 2022 | 22:51:PM
آصف علی زرداری، شہباز شریف، شیری رحمان، پولیس کشی، مذمت
کیپشن: آصف علی زرداری، شہباز شریف، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)سابق صدر آصف علی زرداری ، اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف اور پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پارلیمنٹ لاجزپرپولیس کشی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سابق صدر آصف زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ کٹھ پتلی وزیراعظم خوف اور دہشت کے ذریعے اراکین پارلیمنٹ کو ہراساں کر رہے ہیں، صرف جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ممبر نہیں تمام اسمبلی ارکان کو ڈرانےکی کوشش کی جارہی ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ پولیس افسر اور انتظامیہ کٹھ پتلی کے غیرقانونی حکم پرعمل نہ کریں،اراکین اسمبلی حوصلہ بلند رکھیں، نیازی حکومت آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔

ادھرمسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ گرفتار ارکان کو فوری رہا کیا جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے ۔ انہوںنے کہاکہ عمران نیازی بوکھلاہٹ، گھبراہٹ اور تحریک عدم اعتماد کے خوف میں پاگل پن پر اتر آئے ہیں، ملک کو تصادم کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ تحریک عدم اعتماد آئین کا راستہ ہے، حکومت غیر آئینی، غیرقانونی اور غیرجمہوری رویے پر اتر آئی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پولیس کے ذریعے ارکان پارلیمان کا محاصرہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے عمران نیازی کی ہار کا ثبوت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ارکان پارلیمنٹ کی پرائیویسی، آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پولیس کا لاجز میں جانا آمریت اور فسطائیت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ارکان پارلیمان کو کوئی گزند پہنچا تو ذمہ دار عمران نیازی اور ان کی حکومت ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ پولیس فورس کو آئین کے راستے میں رکاوٹ بنانا عمران نیازی کی آئین سے غداری کے مترادف ہوگا، مزاحمت پر مجبور نہ کیا جائے

جبکہ نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے پارلیمنٹ لاجز میں پولیس آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بوکھلاہٹ کی شکار حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ لاجز میں جے یو آئی ایف کے کارکان کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔انہوںنے کہاکہ ایم این اے کو گرفتار کرنا انتہائی افسوسناک عمل ہے، اسپیکر کی اجازت کے بغیر پولیس کسی ممبر پارلیمنٹ کو گرفتار نہیں کر سکتی۔ انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے کس چیز سے خوفزدہ ہیں؟ ،ریاستی طاقت کا ایک جماعت کے کارکنان کے خلاف استعمال قابل مذمت ہے،حکومت ہوش کے ناخن لے، یہ کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ارکان اسمبلی کی گرفتاری ، جے یو آئی کی کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے کی کال