حکومت پر سنگین الزامات،ثبوت مانگنے پر ہوا میں تیر چلاتے رہے

عمران خان | حملے کے بعد معاملے پر کیوں پردہ ڈالا جا رہا ہے، کوئی آزادانہ تحقیقات کیوں نہیں ہو رہیں، آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، ایجنسیاں اس کے ماتحت ہوں۔ہمیں مقبولیت کے لیے کسی پر الزام لگانے کی ضرورت نہیں

Nov 08, 2022 | 09:54:AM
سابق وزیراعظم, عمران خان, تحریک انصاف, کنٹینر, جسٹس عمر عطاء بندیال, ماڈل ٹاؤن
کیپشن: عمران خان سی این این سے بات کرتے ہوئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران مجھے تین گولیاں لگیں، حملہ کرنے والے دو تھے، شائد تین بھی ہو سکتے ہیں، حملے کے بعد معاملے پر کیوں پردہ ڈالا جا رہا ہے، کوئی آزادانہ تحقیقات کیوں نہیں ہو رہیں، آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، ایجنسیاں اس کے ماتحت ہوں۔ہمیں مقبولیت کے لیے کسی پر الزام لگانے کی ضرورت نہیں۔

 
امریکی ٹی وی سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ میرے دائیں ٹانگ میں 3 گولیاں لگیں، گولیاں لگنے سے ہڈیوں متاثر ہوئی ہیں، مجھے بالکل ٹھیک ہونے میں چار سے ماہ کا عرصہ درکار ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھ پر حملہ کرنے والے دو افراد شامل تھے، ایک ملزم پکڑا گیا ہے اسکی فائرنگ کے بعد میں اور میرے دیگر ساتھی کنٹینر پر نیچے گر گئے، اسی وجہ سے ہم بچنے میں کامیاب ہو گئے، عوام میں ایک کارکن نے حملہ آور کی بندوق کو نیچے گرا دیا ورنہ ہم مارے جاتے۔ ایک اور گولی چلی جو میرے سر کے اوپر سے گزر گئی، یہ مکمل طور پر پلاننگ کے ساتھ کیا ہوا منصوبہ ہے، اس کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں،وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ سمیت تین افراد حملے میں ملوث ہیں، اگر آزاد اور شفاف تحقیقات ہوں اور انویسٹی گیشن ایجنسیاں اس کے نیچے ہوں، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال سے بھی اپیل کی ہے انکوائری کے لیے کمیشن بنایا جائے، اگر میں غلط ہوں تو کمیشن مجھے غلط ثابت کرے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ مجھ پر حملہ پلاننگ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ دو ماہ پہلے بنایا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں ہونے والے سروے ہمارے حق میں ہیں اور 75 فیصد ضمنی الیکشن میری پارٹی جیت چکی ہے، مجھے سب کچھ پتہ ہے کیا ہوا ہے، ماضی کو دیکھتے ہوئے جن دو لوگوں کو نامزد کیا ہے، ان میں شہباز شریف، رانا ثناء اللہ شامل ہیں، دونوں قاتل ہیں، دونوں سیاسی احتجاج کے دوران عوام پر شدید فائرنگ کی۔ ماڈل ٹاؤن بھی اس کی بہترین مثال ہے۔ وزیر آباد کے حملے کے بعد ہمیں پتہ ہے کس نے ملزم کی ویڈیو شیئر کی۔

ایک سوال پر پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ارشد شریف پاکستان کا بہترین انویسٹی گیٹڈ صحافی تھے، جنہیں چند ہفتے قبل کینیا میں قتل کر دیا گیا، پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ تھا، اس خطرے کو بھانپتے ہوئے وہ دبئی کے راستے کینیا چلے گئے، اسی دوران میرے چیف آف سٹاف ڈاکٹر شہباز گل اور پاکستان تحریک انصاف کےسینٹر اعظم سواتی پر بدترین تشدد کیا گیا، دونوں نے ادارے کے سینئر افسر پر الزام لگایا، وہ ہم پر ہونے والے تشدد کے ذمے دار ہیں۔ ان چیزوں کو ہم سامنے لاتے ہیں جس کی بناء پر مجھ پر پابندی لگا دی جاتی ہے، یہ کن بنیادوں پر مجھ پر پابندی لگا رہے ہیں، میں نے کونسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

 
انہوں نے کہا کہ میں تین سال سے زائد اقتدار میں رہا، میرے مختلف انٹیلی جنسیوں میں لوگوں کے ساتھ رابطے ہیں، انہی کی طرف سے مجھ پر حملہ کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ میں نے پرویز مشرف کے مارشل لاء کے دور میں جیل کاٹی تھی، ملک میں جو اس وقت ہو رہا ہے اس طرح تو سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں ہوا۔

عمران خان کی دائیں،بائیں ،شائیں 

امریکی ٹی وی کی میزبان بار بار پوچھتی رہی آپ حملے میں تین افراد کے نام لے کر سنگین الزامات لگا رہے ہیں اس کے شواہد کیا ہیں؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی واقعات کا پس منظر بتاتے رہے۔ اینکر نے کہا کہ پس منظر تو معلوم ہے،  بڑے احترام سے آپ سے الزامات کے شواہد کا پوچھا ہے۔ بار بار اصرار پر بھی عمران خان شواہد پیش نہ کر سکے اور  بولے دائیں ٹانگ سے تین گولیاں نکال لی گئی ہیں جب کہ بائیں ٹانگ میں گولی کے ٹکڑے اندر چھوڑ دیے گئے، معمول کی سرگرمیاں بحال ہونے میں 4 سے 6 ہفتے لگیں گے۔