نائجیریا: سکول پر حملہ، 287 طلبہ اغواء

نائجیریا کے شمال مغربی علاقے میں بندوق برداروں نے جمعرات کو ایک اسکول پر حملہ کرکے کم از کم 287 طلبہ کو اغوا کرلیا۔ اس مغربی افریقی ملک میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں بڑے پیمانے پر اغوا کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

Mar 08, 2024 | 15:07:PM
نائجیریا: سکول پر حملہ، 287 طلبہ اغواء
کیپشن: جمعرا ت کو ہونے والے حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے
سورس: اے ایف پی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) حالیہ برسوں میں نائجیریا کے شمال مغربی اور وسطی علاقوں میں اغواء کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔ ان علاقوں میں درجنوں مسلح گروپ بھاری تاوان وصول کرنے کیلئے گاؤں والوں اور مسافروں کو اکثر اپنا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق جمعرات کے روز کدونا ریاست کے کوریگا قصبے میں واقع ایک سرکاری اسکول کو حملہ آوروں نے اس وقت گھیرے میں لے لیا جب صبح آٹھ بجے طلبہ اپنی پڑھائی شروع کرنے والے تھے۔

مقامی حکام نے قبل ازیں کہا تھا کہ حملے میں ایک سو سے زیادہ طلبہ کو یرغمال بنالیا گیا ہے لیکن اسکول کے ہیڈماسٹر ثانی عبداللہی نے کدونا کے گورنر اوبا ثانی، جو واردات کے بعد اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے تھے، کو بتایا کہ اسکول کے مجموعی طورپر 278 طلبہ اور طالبات لاپتہ ہیں۔ یہ قصبہ دارالحکومت سے تقریبا ً90 کلومیٹر کے فاصلے پر واقعے ہے۔

 گورنر نے مقامی لوگوں کو یقین دہانی کرائی کہ ہم ہر بچے کو واپس لائیں گے اور اس کے لیے ہم سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مذاکرات کاروں کا رمضان سے قبل غزہ میں جنگ بندی پر زور

جمعرا ت کو ہونے والے حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی حالانکہ اس کیلئے ان مسلح گروپوں کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے، جن میں بیشتر چرواہے ہیں اور بھاری تاوان وصول کرنے کیلئے ماضی میں بھی پرتشدد حملے کرتے رہے ہیں۔

واردات کے کئی گھنٹے بعد گورنر کے ساتھ سیکیورٹی فورسز پہنچیں اور تلاشی کی مہم شروع کی گئی۔ دوسری طرف متاثرہ والدین کسی امید افزا خبر سننے کے انتظار میں ہیں۔

فاطمہ عثمان نامی ایک خاتون، جن کے دو بچے اغواء ہونے والوں میں شامل تھے، نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا کریں، ہم سب انتظار کررہے ہیں۔ اللہ ہماری مدد کرے۔

جمعرات کے روز یہ حملہ اسی ہفتے شمال مشرقی نائجیریا میں شرپسندوں کے ایک اور حملے کے بعد ہوا ہے، جس میں 200 سے زائد افراد، جن میں بیشتر خواتین تھیں، کو اغواء کرلیا گیا تھا۔

تنازعات سے متاثرہ شمالی نائجیریا میں اکثر خواتین، بچوں اور طلباء کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور بھاری تاوان ادا کرنے کے بعد ہی ان کو رہا کیا جاتا ہے۔

شمالی نائیجریا میں مسلح حملہ آورں کے ذریعہ تاوان کیلئے اغواء ایک وبائی صورت اختیار کرگئی ہے، جس سے عام لوگوں کی روز مرہ کی زندگی اور اسکول جانے والے ہزاروں بچوں متاثر ہو رہے ہیں۔

والدین اور علاقے کے رہائشی اغواء کی وارداتوں کیلئے علاقے میں سیکیورٹی کے فقدان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نائجیریا کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ طلبہ کی محفوظ واپسی کو یقینی بنائیں اور قصورواروں کیخلاف سخت کارروائی کریں۔