عمران خان کی ذات پر کبھی تنقید نہیں کی، پالیسی سے اختلاف کا حق حاصل ہے، شاہد آفریدی

May 07, 2022 | 21:25:PM
سابق کپتان، شاہد آفریدی، عمران خان کی ذات، تنقید نہیں کی، پالیسیوں سے اختلاف، حق
کیپشن: شاہد آفریدی، عمران خان، فائل فوٹو
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے کبھی عمران خان کی ذات پر تنقید نہیں کی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے کا حق انہیں حاصل ہے۔

شاہد آفریدی، المعروف بوم بوم لالا کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے متعلق اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 3 منٹ 41 سیکنڈ طویل ویڈیو پیغام شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو اپنا دوست قرار دیتے ہوئے ان سے نا صرف محبت کا اظہار کیا بلکہ ان پر تنقید بھی کی ہے۔شاہد آفریدی نے اپنے ویڈیو پیغام کے آغاز میں اپنی شہرت اور بہترین کرکٹ کیریئر کا ذمہ دار عمران خان کو ٹھہرایا۔

شاہد آفریدی نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کا احترام کرنا مہذب معاشرے کی نشانی ہے، انہوں نے بطور کپتان ہمیشہ عمران خان کی تعریف کی ہے لیکن بطور وزیر اعظم، عران خان کی سوچ اور پالیسیوں سے اختلاف کرنا ا±ن کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ میرے آئیڈیل رہے ہیں، ان کو دیکھ کر کرکٹ شروع کی، 1992ءورلڈ کپ سے ہماری بہت یادیں جڑی ہیں۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ میں نے کبھی عمران خان کی ذات پر تنقید نہیں کی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے کا حق مجھے حاصل ہے، میں یہ بات ایک عام شہری کی حیثیت سے کر رہا ہوں، میں نے سیاسی باتوں کی وجہ سے تنقید نہیں کی، عام پاکستانی کے طور پر خیالات کا اظہار کیا ہے اور تنقید اور اختلاف کرنے کا حق ہر پاکستانی کو حاصل ہے۔شاہد آفریدی نے کہا کہ ایک دوسرے سے اختلافات رکھیں لیکن اسے نفرت میں نہیں بدلنا چاہیے۔شاہد آفریدی نے کہا کہ جب میں نے نو منتخب وزیر اعظم، شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے کی مبارکبادی دی تھی تو میں جانتا تھا کہ مجھ پر تنقید ہوگی، شہباز شریف کو وزیر اعظم بننے کی مبارکباد دینے کے پیچھے میرا کوئی سیاسی یا زاتی مفاد شامل نہیں ہے۔شاہد آفریدی کا اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ جو بھی سربراہ ہیں ہمارے ملک کے وہ تمام قابل احترام ہیں کیوں کہ وہ ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، ہم اگر ملک کی عزت چاہتے ہیں تو حکومت وقت اور اپنے سربراہوں کی عزت کرنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کے حوالے سے اہم خبر