فخر یا شرم۔۔بھارت معاشی اور سماجی طور پر تباہی کے دہانہ پر ۔۔تہلکہ خیز رپورٹ جاری

Dec 07, 2021 | 18:13:PM
ملٹی پاورٹی، انڈیکس، رپورٹ ،جاری، بھارت
کیپشن: ملٹی پاورٹی انڈیکس رپورٹ جاری
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ذارئع ابلاغ کے مطابق بھارت میں سیاست ہی نہیں صحافت بھی ذات برادری اور فرقہ پرستی کے مکڑ جال میں کچھ ایسی الجھی ہوئی ہے کہ انہیں پتہ نہیں چل رہا ہے کہ وہ معاشی اور سماجی طور سے تباہی کے کس دہانہ پر کھڑے ہیں، اس بات کی کی  نظیر نہیں ملتی اور بھارتی حکومت اس چیز کی  زیادہ فکر بھی نہیں کرتی۔ بھارتی حکومت فخریہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس نے 80کروڑ لوگوں کو مفت اناج دیا، سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ فخر کی بات ہے یا شرم کی۔ 130کروڑ کی آبادی والے ملک میں اگر80کروڑ مفت اناج پانے کے مستحق ہیں تو سمجھا جا سکتا ہے کہ ہماری معیشت کس مقام پر پہنچ چکی ہے۔

بھارت کے ایک اردو اخبار کی ویب رپورٹ کےمطابق  گزشتہ دنوں بھارتی اپوزیشن کی کسی پارٹی یا کسی لیڈر نے نہیں بلکہ خود بھارتی حکومت کے ادارہ نیتی آیوگ نے ایک   تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک کی غریب ترین پانچ ریاستوں میں ہندی بیلٹ کی ہی ریاستیں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بہار میں 52فیصد آبادی غریب ہے، جھارکھنڈ میں 42فیصد، اترپردیش میں38فیصد، مدھیہ پردیش میں 37فیصد اور میگھالیہ میں 33فیصد آبادی غریب ہے، اس کے مقابلہ کیرالہ میں اعشاریہ 71فیصد، گوا اور سکم میں تقریباً 4فیصد، تامل ناڈو میں 5فیصد اور پنجاب میں 6فیصد آبادی غریب ہے۔غور کیجیے تو سمجھ سکیں گے کہ سب سے زیادہ غریب ریاستو ں میں وہ ریاستیں ہی شامل ہیں جہاں حکومتوں کا انتخاب عوام اپنے مسائل حل کرنے، اپنے لئے بہتر زندگی اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے نہیں، بلکہ اپنی ذات اور اپنے مذہب کی بالادستی قائم کرنے کے لئے کرتے ہیں۔یہ بھی سمجھ سکیں گے کہ ان میں سے زیادہ تر میں ڈبل انجن والی سرکاریں ہیں یعنی مرکز اور ریاستوں میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: دفعہ 144 نافذ۔۔7 دسمبر سے5 جنوری تک احتجاجی مظاہروں پر پابندی

نیتی آیوگ کی جانب سے جاری کی گئی پہلی ملٹی پاورٹی انڈیکس رپورٹ جہاں الگ الگ ریاستوں کے حالات کا احاطہ کرتی ہے، وہیں پالیسی سازوں کے لئے ایک بہتر پیمانہ بھی فراہم کرتی ہے۔ آیوگ کی مذکورہ رپورٹ سے صاف ظاہر ہے کہ جن ریاستوں میں فروعی مسائل مذہب اور ذات برادری کی بالادستی قائم کرنے کی خواہش کے بجائے اپنی بہتر زندگی اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کو مد نظر رکھ کر عوام اپنی حکومت منتخب کرتے ہیں، وہاں عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور ان کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے حکومتوں نے بہترین کام کیا ہے جبکہ ذات برادری اور مذہب کے مکڑ جال میں الجھی ریاستیں اور وہاں کی حکومتیں اس معاملہ میں پھنسی رہیں۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ غلطی، کمزوری اور خامی ان حکومتوں کی نہیں بلکہ ان ریاستوں کے عوام کی ہے۔جب آپ بہتر معیار زندگی، بہتر تعلیمی اداروں، جدید ترین ہسپتالوں اور زندگی کی دیگر ضروریات کوخارج کرتے ہوے مندر مسجد کے لئے ووٹ دیں گے، آپ کے سامنے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے بجائے آپ کے مذہب اور ذات کی بالادستی قائم کرنا زیادہ اہم ہے توآپ وہی سب حاصل کر کے خوش رہیے، آپ کی صحت پر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ کی ریاست کی نصف سے زیادہ آبادی اب بھی غریب ہے اور زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔

عام طور سے کسی بھارتی ریاست میں سرمایہ کاری اور فی کس آمدنی کے پیمانہ سے غربت کی سطح کا اندازہ لگایا جاتا رہا ہے لیکن نیتی آیوگ نے اس کے لئے ایک خاص پیمانہ طے کیا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ مختلف حکومتوں  کی جانب سے شروع کی گئی سکیموں اور پالیسیوں کا زمینی سطح پر کیا اثر پڑا ہے اور ان ریاستوں نے ان پالیسیوں اور پروگراموں میں عمل پر جو رقم خرچ کی ہے، وہ عوام کے کس حد تک مفاد میں رہی ہے اور ان کی زندگی میں کتنا اور کیسا بدلاؤ آیا ہے، ان کا معیار زندگی کتنا بلند ہوا ہے، اس معاملہ میں یہ ایک نیا اور بہت اہم پیمانہ ہے۔ملٹی ڈائی مینشنل پاورٹی انڈیکس عمومی اہمیت کے تین فیکٹر صحت، تعلیم اور معیار زندگی کی بنیادی صورت حال کا جائزہ لیتا ہے اور اس کے 12انڈیکٹر س کا استعمال کرتا ہے۔ یہ محض خط افلاس کی بنیاد پر غربت کی سطح ناپنے کے روایتی فارمولہ سے الگ ہے اور 2015میں تقریباً193 ملکوں میں نافذ کئے گئے فارمولہ اور طریق کار کے مطابق ہے جسے سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ گول کا نام دیا گیا تھا ۔نیتی آیوگ کی اس رپورٹ کے لئے اعداد و شمار قومی خاندانی حفظان صحت سروے کی2015-16 کی رپورٹ سے لئے گئے ہیں ۔

بھارتی حکومت معیشت میں تیز رفتاری کے دعوے کر رہی ہے، اس کا کہنا ہے کہ معیشت کورونا کی تباہ کاری سے نہ صرف ابھر رہی ہے بلکہ رفتار بھی پکڑ رہی ہے۔ عوام نے خریداریاں شروع کر دی ہیں اور رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 8.40فیصد رہی حالانکہ اسے بہت اچھا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ 20.10فیصد تھی پھر بھی مسلسل چوتھی سہ ماہی میں مثبت حلقہ میں رہنا اچھا اشارہ تو ہے ہی۔ بھارتی وزارت مالیات کے خصوصی مشیر کے وی سبرا منیم کا دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے اور رواں مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح دو ہندسوں میں جا سکتی ہے۔

نہ صرف جی ڈی پی کی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے بلکہ جی ایس ٹی کلیکشن میں بھی اضافہ ہوا۔ حکومت نے بتایا ہے کہ نومبر میں اس مد میں ایک لاکھ 31ہزار 526کروڑ روپے جمع ہوئے جو 2017میں جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد دوسرا سب سے بڑا کلیکشن ہے جبکہ سب سے بڑی وصولی اس سال اپریل میں ایک لاکھ 41ہزارکروڑ روپے کی ہوئی تھی۔لیکن اہم سوال یہی ہے کہ بھارت میں بے روزگاری کی شرح کیوں بڑھتی جا رہی ہے، کیا سماج کے ہر طبقہ کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے ویسے تو ایک ’’دھنا سیٹھ‘‘کو پچھاڑ کر دوسرا دھنا سیٹھ دنیا کے امیر ترین لوگوں کے گروپ میں شامل ہو گیا ہے لیکن کیا اسے ملکی معیشت میں سدھار سمجھا جا سکتا ہے۔ایک طرف بے روزگاروں کی بڑھتی فوج ہے، دوسری طرف اشیائے ضروری کی آسمان چھوتی قیمتیں، تیسری طرف اندھا دھند فروخت ہو رہی عوامی زمرہ کی کمپنیاں اور چوتھی طرف زرعی زمرہ کی پریشانیاں، ان سب پر اگر سنجیدگی اور ایمانداری سے غور کیا جائے تو حکومت کے دعوے کھوکھلے اور اعداد و شمار بازیگری ہی معلوم پڑتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بُک پر 150 ارب ڈالر کا مقدمہ ۔۔