اوپن بیلٹ سینٹ الیکشن:آپس میں اتفاق رائے کیوں نہیں کر لیتے؟سپریم کورٹ

Jan 04, 2021 | 15:20:PM
اوپن بیلٹ سینٹ الیکشن:آپس میں اتفاق رائے کیوں نہیں کر لیتے؟سپریم کورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز)سپریم کورٹ میں سینٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی ،عدالت نے چیئرمین سینٹ,اسپیکر قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا,صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز اور وفاق سمیت صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو بھی نوٹسز جاری کر دیئے گئے,سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کوئی فریق چاہے تو تحریری معروضات جمع کروا سکتا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے سینٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی.اٹارنی جنرل خالد جاوید نے دلائل دیئے کہ آرٹیکل 226 کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا,ریفرنس میں سینٹ الیکشن خفیہ رائے شماری سے نہ کرنے کا قانونی سوال اٹھایا،سوال ہے کیا آرٹیکل 226 کا اطلاق صرف آئین کے تحت ہونے والے الیکشن پر ہوتا ہے؟

جسٹس اعجاز الاحسن نےریمارکس دئیے کہ جہاں تک ہمیں معلوم ہے ووٹوں کی خرید وفروخت کے خاتمے پرتمام فریقین متفق ہیں,آپ چاہتے ہیں عدالت آئین اور قانون کے تحت ہونے والے انتخابات میں فرق واضح کرے,آئین میں سینٹ اور اسمبلی انتخابات کا ذکر ہے،انتخابات کیسے ہونے ہیں یہ بات الیکشن ایکٹ میں درج ہوگی،بلدیاتی انتخابات کا طریقہ کار آئین میں نہیں,الیکشن ایکٹ بھی آئین کے تحت ہی بنا ہوگاکیا کوئی قانون آئین سے بالاتر ہو سکتا ہے؟

جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ اس تنازعے میں کیوں پڑے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ لوگ سپریم کورٹ آنے کے بجائے اس معاملے پر اتفاق رائے کیوں قائم نہیں کر لیتے؟جس پر اٹارنی جنرل نے کہا یہ معاملہ اس قدر سادہ نہیں جس طرح عدالت بیان کر رہی ہے.عدالت نے چیئرمین سینٹ,اسپیکر قومی اور صوبائی اسمبلیوں سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 11 جنوری تک ملتوی کر دی۔