دوسری جنگ عظیم میں نہ پھٹنے والا گرنیڈ9 سالہ بچے کے ہاتھ لگ گیا، حکام کی دوڑیں لگ گئیں

Mar 27, 2023 | 22:53:PM
دوسری جنگ عظیم میں نہ پھٹنے والا گرنیڈ9 سالہ بچے کے ہاتھ لگ گیا، حکام کی دوڑیں لگ گئیں
کیپشن: ہینڈ گرنیڈ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)دوسری جنگ عظیم کے دوران نہ پھٹنے والا ہینڈ گرنیڈ9 سالہ برطانوی بچے کے ہاتھ لگ گیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دوران دھماکے اور نقصان کی غرض سے استعمال کیا جانے والا ایک سالم گرنیڈ (دستی بم)برطانیہ کے ایک گھر کے باغیچے سے اس وقت دریافت ہوا جب وہاں ایک نو سالہ بچہ جارج کھیل کے دوران کچھ تلاش کر رہا تھا۔ نو سالہ جارج نے کھدائی کے دوران ملنے والے سالم گرنیڈ سے متعلق اپنی والدہ کو آگاہ کیا جس پر پولیس کو فورا اطلاع دی گئی۔
اس گرنیڈ کی دریافت سے متعلق 9 سالہ بچے کی والدہ کا پولیس کو بتانا تھا کہ وہ تقریبا آدھی نیند میں تھیں جب ان کے بیٹے نے انہیں باغیچے میں گرنیڈ کے ملنے سے متعلق بتایاکہ انہوں نے عام ماں کی طرح اپنے بچے کی اس انوکھی بات پر زیادہ دھیان نہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی باغیچے میں گرنیڈ ہے تو جا اس کی تصویر بنا لا۔
بچے کی والدہ مسز پنیسٹن برڈ کے مطابق جب انہوں نے گرنیڈ کی تصویر دیکھی تو انہیں بیٹے کی بات کا یقین ہوا۔اس واقعے سے متعلق 9 سالہ بچے جارج کی والدہ کا کہنا ہے کہ گھر کے باغیچے سے گرنیڈ ملنا، پولیس کا گھر آنا اور اس گرنیڈ کا تاریخی ثابت ہونا ان کے بیٹے کیلئے یہ سب بہت دلچسپ تھا۔
دوسری جانب برطانوی پولیس کی جانب سے اس گرنیڈ کو دوسری جنگ عظیم کا نہ پھٹنے والے گرنیڈ کا نام دیا گیا ہے۔اس واقعے سے متعلق برطانوی پولیس کا میڈیا کو بتانا ہے کہ بم سکواڈ کی جانب سے اس گرنیڈ کا باقاعدہ ایکسرے کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ گرنیڈ تاحال خطرناک ہے۔واضح رہے کہ رورل ایسٹ ڈیون پولیس کی جانب سے اس گرینیڈ کی تصاویر اور واقعے کی تفصیلات اپنے فیس بک پیج پر بھی شیئر کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کےخلاف فتح پر طالبان حکام بھی میدان میں آگئے