مہنگائی کا نیا طوفان تیار۔۔مشیر خزانہ نے آئندہ ہفتے منی بجٹ لانے کا اعلان کر دیا

Nov 24, 2021 | 19:09:PM
گیس بحران۔ایل این جی ۔کارگو۔منی بجٹ۔مشیر خزانہ
کیپشن: مشیر خزانہ شوکت ترین (فائل فوٹو)

 ( نیوز ایجنسی)مشیر خزانہ شوکت ترین نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے اگر وقت پر مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگوز خریدلئے ہوتے تو گیس کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا’آئی ایم ایف کے معاہدے کی شرائط پہلے کی طرح کڑی نہیں ہیں، لکی مروت اور دوسرے مقامات پر گیس کی دریافت ہوئی ہے، مقامی کمپنیاں کچھ نہیں کر رہی ہیں ،دسمبر اور جنوری کے درمیان قیمتیں کم ہوں گی،منی بجٹ کا اعلان آئندہ ہفتے تک کردیا جائے گا۔

ایک انٹرویو میں شوکت ترین نے کہا  منی بجٹ کا اعلان آئندہ ہفتے تک کردیا جائے گا، منی بجٹ سے 350 ارب روپے کی چھوٹ ختم کی گئی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی انداز میں چھوٹ حاصل کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ آپ یکساں ٹیکس ریٹ 17 فیصد کردیں۔17 فیصد ٹیکس ریٹ کی وجہ سے مارکیٹ پر دباؤ کے حوالے کے کیے گئے سوال پر شوکت ترین نے کہا کہ اس سے مارکیٹ میں تھوڑا بہت دباؤ پیدا ہوگا اور اس کے اثرات نمو پر بھی مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہااس میں کوئی شک نہیں ہے ملک میں گیس مہنگی ہے۔ گیس کے شدید بحران کے حوالے سے سوال پر شوکت ترین نے کہا کہ گزشتہ دنوں میں ہمیں جو کارگوز لے لینے چاہئیں تھے وہ ہم نے نہیں لئے ، ابھی حالات یہ ہیں کہ پٹرول اور گیس کی درآمدات 7 سے 8 ڈالرز بڑھ گئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ دسمبر اور جنوری کے درمیان قیمتیں کم ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ لکی مروت اور دوسرے مقامات پر گیس کی دریافت ہوئی ہے، مقامی کمپنیاں کچھ نہیں کر رہی ہیں کیونکہ ان کے پاس کیش نہیں ہے، ان کے اوپر گردشی قرضہ اتنا ہے کہ وہ ڈیویڈنٹ نہیں دے سکتیں، تو جیسے ہی وہ ڈیویڈنٹ دیں گے اس کی قیمت بڑھ جائے گی۔آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے حوالے سے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم سے دوسرے معاہدے کی شرائط گزشتہ معاہدے کے مقابلے اتنی مشکل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے معاہدے میں 700 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے تھے اور بجلی کے فی یونٹ پر 4 روپے کا ٹیرف بڑھانا تھا اور مرکزی بینک کو آزاد بنانا تھا۔انہوں نے کہاکہ میں نے اپریل میں عہدہ سنبھالا اور حکومت آئی ایم ایف سے پہلے ہی معاہدہ کر چکی تھی، میں نے حکومت کو ٹیکس دینے والوں پر بوجھ کم کر کے مزید ٹیکس کنندگان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے حکومت سے کہا کہ گردشی قرضہ بڑھنے کا سبب بے شمار بجلی گھر ہیں، آج آپ ٹیرف میں اضافہ کریں تو اس کا نقصان عام شہری کو بھرنا پڑے گا لہٰذا اس کا کوئی دوسرا حل نکالا جائے۔پیشگ

ی اقدامات کے حوالے سے شوکت ترین نے کہاکہ آئی ایم ایف کو ایک موقع ملا ہے جب میں 2008 میں آئی ایم ایف گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں افراط زر کی شرح 18 فیصد ہے اور ڈسکاؤنٹ کی شرح 13 فیصد ہے اور اسے مزید 5 فیصد بڑھائیں۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نے کہا کہ یہ آپ کا پہلا پیشگی اقدام ہوگا جس پر میں نے اس عمل سے انکار کردیا تھا، میں نے کہا یہ تیل کی مہنگائی ہے جب تیل کی قیمت نیچے آجائے گی تو ہم کیا کریں گے ہم اپنا بزنس خراب نہیں کر سکتے، میں نے صرف ڈھائی فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھایا، یہ اس وقت کی صورتحال تھی۔آئی ایم ایف کی موجوہ شرائط کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر ہم یہ بات پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے اور تینوں معاملات پر آپ کو فنانس بل لانا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے ٹیکس کی بات کی تھی ہم 300 ارب روپے پر متفق ہوئے، انہوں نے کہا کہ 4 روپے 95 پیسے ٹیرف بڑھائیں ہم نے آدھے ٹیرف ریٹ پر انہیں رضا مند کیا۔شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے میں موجود اسٹیٹ بینک سے متعلق کئی ایسی شرائط نکال دی ہیں جو ہم پوری نہیں کر سکتے تھے۔

گاڑیوں کی قیمتوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ گاڑیوں کی قیمت میں کمی کا ایک طریقہ اپنایا گیا تھا، جس سے نمو میں اضافہ ہوا، ہمیں اب سے روکنا پڑے گا۔ان کا بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر کہنا تھا کہ 15 ارب کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ویکیسن بھی شامل ہے جو فنڈڈ ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاونٹ خسارے کو کم کرنا ہوگابجلی قیمت کے حوالے سے مشیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں 4 روپے سے زائد اضافہ کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن ہم نے ایک روپیہ 68 پیسے اضافہ کیا تاہم انہوں نے کہاکہ بجلی کی قیمت اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن پیٹرول کی قیمت کے زیادہ اثرات پڑتے ہیں، اگر پیٹرول کی قیمت کم نہیں ہوئی تو یہ لوگوں کے لیے بوجھ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ڈسکاؤنٹ کی شرح میں اضافے سے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور اب دوبارہ وہ وقت نہیں آئے گا جب شرح سود 13 فیصد سے زائد تھی۔شوکت ترین نے شرح تبادلہ کے حوالے سے کہا کہ یہ اسٹیٹ بینک کا معاملہ ہے، میرا خیال ہے کہ جب تک مہنگائی کم نہیں ہوگی شرح تبادلہ نیچے نہیں آئے گا، اسے مستحکم رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ شرح تبادلہ کا سب سے بڑا نقصان مہنگائی ہے اور اس سے کھانے کی اشیا کی برآمدات پر اثر پڑتا ہے۔نجکاری سے متعلق سوال پر انہوںنے کہاکہ ہمارے پاس ایسے کئی منصوبے موجود ہیں جس میں آر ایل این جی پلانٹس بھی شامل ہیں، ہمارے پاس 15 ادارے ہیں جس میں اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، اس کے لیے ہم ایک بورڈ بنائیں گے، سب سے پہلے ڈسکوز پھر پی آئی اے اور اس کے بعد ریلوے سمیت دیگر اداروں کی نجکاری ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں۔دال مسور اور سفید چنے کا ریٹ چالیس روپے فی کلو بڑھ گیا