آڈیو لیکس کے معاملے پر عمران خان عدالت عظمیٰ کیوں گئے؟؟؟

Oct 20, 2022 | 22:10:PM
ماضی، وزیراعظم کی جاسوسی، جائز، عمران خان، غیرقانونی قرار، عرضی، سپریم کورٹ،
کیپشن: عمران خان اور سپریم کورٹ، فائل فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(صبیح الدین شعیبی) ماضی میں وزیراعظم کی جاسوسی کو جائز کہنے والے عمران خان، اسے غیرقانونی قراردینے کی عرضی لےکر سپریم کورٹ پہنچ گئے۔ سابق وزیراعظم نے آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن یا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی درخواست دائر کردی۔
عمران خان نے عدالت سے یہ التجا بھی کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ اتھارٹیز کو مزید آڈیو کی ریلیز روکنے کا حکم دیا جائے۔ سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں چیئرمین پی ٹی آئی نے وزارت داخلہ، دفاع، آئی ٹی اور اطلاعات کو فریق بنایا ہے اور استدعا کی ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس اور آفس کی نگرانی، ڈیٹا ریکارڈنگ اور آڈیو لیکس کوغیر قانونی قرار دیا جائے۔ عمران خان جب وزیراعظم تھے تو وزیراعظم ہاؤس کی نگرانی اور ڈیٹا ریکارڈنگ کی حمایت کرتے تھے۔ نجی ٹی وی کے اینکر منصور علی خان کو ایک انٹرویو میں تو انہوں نے یہ کام کرنےوالوں کی بہت تعریف کی تھی۔

جگر مراد آبادی نے کہا تھا


یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو توحلال ہے، جو یہاں پیو تو حرام ہے

پہلے جس کام کوعمران خان ٹھیک کہتے ہوئے اس میں ملوث لوگوں کو ہیرو کہتے تھے، اب انہی کو زیرو بنانے پر تل گئے ہیں۔ 

مرزا غالب کی روح سے معذرت کےساتھ 
”دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
تیرے یوٹرن کی وجہ کیا ہے“

جب وزیراعظم ہاؤس کی آڈیولیکس کے سلسلے میں شہباز شریف اور مریم نواز وغیرہ کی آڈیو جاری ہوئی تھیں تو کپتان کے کھلاڑیوں نے خوب شادیانے بجائے تھے، مگر کیونکہ ان آڈیوز سے موجودہ حکومت پر کرپشن کا کیس بنانے کا کوئی جواز نہیں تھا تو کسی نیب ، کسی الیکشن کمیشن ،کسی سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کارخ نہیں کیا گیا۔ یہ آڈیوز سوشل میڈیا پر کسی بلبلے کی طرح اٹھیں اور دم توڑ گئیں۔
جب خان صاحب کی آڈیو لیکس کاسلسلہ شروع ہوا توتحریک انصاف نے پہلے اسے جعلی،کٹ پیسٹ، اور ایڈٹ شدہ قرارردیا مگر بعد میں عمران خان نے نہ صرف ان آڈیوز کو تسلیم کرلیا بلکہ اعظم خان سے گفتگو کا بھی اعتراف کرلیا۔

سوال یہ ہے کہ آڈیو لیکس کی اگلی قسط میں ایسا کیا جس کے ڈرسے عمران خان کوعدالت عظمیٰ کا در کھٹکھٹانا پڑا؟

بقول غالب
”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“