انتخابی نشان کیس، الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی، چیف جسٹس

Jan 13, 2024 | 10:42:AM
انتخابی نشان کیس، الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی، چیف جسٹس
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)پاکستان تحریک انصاف کو ’’ بلّے ‘‘کا نشان ملے گا یا نہیں؟ سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے،چیف جسٹس پاکستان نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ کا الیکشن کمیشن پر دباؤ ہے تو اس کو بھی ثابت کریں، اسٹیبلشمنٹ کیوں الیکشن کمیشن پر دباو ڈالے گی؟

سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کو ’بلے‘ کا انتخابی نشان واپس کرنے کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف دائر اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ کا حصہ ہیں،پی ٹی آئی کے وکیل سینیٹر علی ظفر، حامد خان اور الیکشن کمیشن کے وکیل مخدوم علی خان سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے جس پر پی ٹی آئی وکیل حامد خان نے کہا کہ فیصلہ پڑھا ہے، پشاور ہائی کورٹ نے بہترین فیصلہ لکھا ہے۔

دریں اثناء حامد خان کے بلانے پر بیرسٹر علی ظفر دلائل کیلئے روسٹرم پر آگئے،بیرسٹر علی ظفر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج پارٹی ٹکٹ جمع کرانے کا آخری دن ہے، وقت کی قلت ہے اس لئے جلدی دلائل مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے پاس بھی وقت کم ہے کیونکہ فیصلہ بھی لکھنا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ 2 سوالات ہیں کہ کیا عدالتی دائرہ اختیار تھا یا نہیں؟ کیا الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی الیکشن کی چھان بین کا اختیار ہے یا نہیں؟،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نہ تو آئین اور نہ ہی الیکشن ایکٹ الیکشن کمیشن کو انٹرا پارٹی الیکشن کے جائزہ کی اجازت دیتے ہیں، انتخابی نشان انٹرا پارٹی انتخابات کی وجہ سے نہیں روکا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل 17 دو طرح سیاسی جماعتیں بنانے کا اختیار دیتا ہے، سپریم کورٹ بھی آرٹیکل 17 دو کی تفصیلی تشریح کر چکی ہے، انتخابات ایک انتخابی نشان کے ساتھ لڑنا سیاسی جماعت کے حقوق میں شامل ہے،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت کو انٹراپارٹی انتخابات کی بنیاد پر انتخابی نشان سے محروم کرنا آرٹیکل 17 دو کی خلاف ورزی ہے، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے، الیکشن کمیشن نے بلے کا نشان چھین کر بظاہر بدنیتی کی ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں ہے، الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے ساتھ جانبدارانہ اور بدنیتی پر مبنی سلوک کیا، بنیادی سوال سیاسی جماعت اور اس کے ارکان ہے اس لئے شفاف ٹرائل کے بغیر کوئی فیصلہ ممکن نہیں،انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں جو شفاف ٹرائل کا حق دے سکے، الیکشن کمیشن میں کوئی ٹرائل ہوا ہی نہیں، پی ٹی آئی کے کسی رکن نے انٹرپارٹی انتخابات چیلنج نہیں کئے، انٹراپارٹی انتخابات صرف سول کورٹ میں ہی چیلنج ہو سکتے تھے، الیکشن کمیشن کے پاس سوموٹو اختیار نہیں کہ خود فیصلہ بھی کرے اور اپیلیں بھی۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات جماعت کے آئین کے مطابق کرائے گئے ہیں، پی ٹی آئی نے پہلے 2022 میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے جو الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کئے،بیرسٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے 20 دن میں انتخابات کرانے کا حکم دیا، خدشہ تھا پی ٹی آئی کو انتخابات سے باہر نہ کر دیا جائے اس لئے عملدرآمد کیا، سپریم کورٹ اسی دوران 8 فروری کو انتخابات کا حکم دے چکی تھی، 2 دسمبر کو پی ٹی آئی نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشین میں پارٹی انتخابات کے خلاف 14 درخواستیں دائر ہوئیں، ہمارا بنیادی موقف تھا کہ درخواست گزار پارٹی ممبر نہیں ہیں، الیکشن کمیشن نے اپنے 32 سوالات بھیجے جن کا تحریری جواب دیا، جواب ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے پارٹی انتخابات کالعدم قرار دے کر انتخابی نشان واپس لے لیا،بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشین کے حکم نامہ میں تسلیم شدہ ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تھے، الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کسی بے ضابطگی کا ذکر نہیں کیا، الیکشن کمیشن نے فیصلے کی جو وجوہات دی ہیں وہ عجیب ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابات کو درست کہا چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی غلط قرار دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا تعیناتی درست نہیں اس لئے انتخابات تسلیم کریں گے نہ ہی نشان دیں گے، کل مخدوم علی خان نے تکنیکی نوعیت کے اعتراضات کئے تھے، مخدوم علی خان کا نکتہ پارٹی کے اندر جمہوریت کا تھا۔

چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ جمہوریت ملک کے ساتھ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی ہونی چاہیے، بنیادی سوال جمہوریت کا ہے پارٹی آئین پر مکمل عملدرآمد کا نہیں، کم از کم اتنا تو نظر آئے کہ انتخابات ہوئے ہیں، اکبر ایس بابر بانی رکن تھے، وہ پسند نہیں تو الگ بات ہے لیکن ان کی رکنیت تو تھی،انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ درخواست گزار پارٹی رکن نہیں تھے، اکبر بابر نے اگر استعفیٰ دیا یا دوسری پارٹی میں گئے تو وہ بھی دکھا دیں، الیکشن کمیشن کی بدنیتی ثابت کرنا ہوگی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو اس وقت نوٹس کیا جب وہ حکومت میں تھی، الیکشن ایکٹ کی آئینی حیثیت پر تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ کسی نے چیلنج نہیں کیا، اِس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کو ہم بھی چیلنج نہیں کر رہے،جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے اپنا جاری کردہ شیڈول فالو کیا تھا؟ کیا انتخابات شفاف تھے؟ کچھ واضح تھا کہ کون الیکشن لڑ سکتا ہے کون نہیں؟انہوں نے ریمارکس دیئے کہ آپ لیول پلیئنگ فیلڈ مانگتے ہیں، اپنے ارکان کو بھی تو لیول پلیئنگ فیلڈ دینی ہوگی، الیکشن کمیشن نے ازخود تو کارروائی نہیں کی، شکایات ملنے پر کارروائی کی۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایسی کسی بے ضابطگی کی نشاندہی نہیں کی، تمام سوالات کے جواب دستاویزات کے ساتھ دوں گا۔چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ انتخابی نشان کیا ہوتا ہے اچھے سے معلوم ہے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے ماضی میں تلوار کا نشان لیا گیا، پھر پی پی پارلیمنٹیرین بنی،چیف جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ مسلم لیگ نے بھی ایسا ہی وقت دیکھا لیکن اس وقت حکومت میں کون تھا یہ بھی دیکھنا ہے، آج پی ٹی آئی کے مخالفین حکومت میں نہیں ہیں .

سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے بلے کے انتخابی نشان سے متعلق کیس  کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے علی ظفر سے استفسار کیا کیا آپ مزید کتنا وقت لیںگے ، بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ ایک گھنٹے میں دلائل مکمل کر لونگا،

جسٹس محمد علی مظہر  نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی نے پشاور میں انٹرا پارٹی انتخابات کا بتایا،پولیس کو سیکیورٹی کیلئے یہ نہیں بتایا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کس جگہ ہونگے،پی ٹی آئی کو یہ تو بتایا چاہیے تھا کہ پشاور میں کس جگہ انٹرا پارٹی الیکشن ہورہے،وکیل علی ظفر  نے جواب دیا کہ پی ٹی آئی نے سیکیورٹی کیلئے پولیس کو آگاہ کیا تھا,جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی کا پشاور میں کوئی دفتر ہے؟علی ظفر نے بتایا کہ ہمارا چمکنی میں آفس ہے،ہم نے الیکشن کمیشن سے انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے سیکورٹی مانگی،الیکشن کمیشن نے آئی جی خیبرپختونخواہ کو سیکیورٹی بارے لکھا،پی ٹی آئی اسلام آباد میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانا چاہتی تھی مگر کوئی جگہ دینے کو تیار نہیں تھا.

پی ٹی آئی وکیل نے  مزید کہا کہ اکبر ایس بابر کا کوئی پینل ہی نہیں تھا اور کاغذات نامزدگی لینے تاخیر سے آئے،جب اکبر ایس بابر انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ لینے کیلئے آئے وقت ختم ہوچکا تھا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کہاں لکھا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے پینل ہونا لازمی ہے،کیا اکیلا کوئی شخص انٹرا پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا،وکیل علی ظفر پی ٹی آئی میں اکیلا شخص انٹرا پارٹی الیکشن نہیں لڑ سکتا پورا پینل ہوتا ہے،چیف جسٹس پاکستان نے پھر سے سوال کیا کہ اکر کوئی بندہ انٹرا پارٹی الیکشن نہیں لڑتا مگر وہ ووٹ تو کاسٹ کر سکے گا،پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن میں ایک بھی شخص نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا،عام انتخابات میں بھی ہوتا ہے کہ ہر شخص الیکشن لڑ سکتا ہے چاہے ووٹ نہ ملیں،

عام انتخابات میں بھی ہوتا کہ اتنی تعداد میں ووٹ ہوں ورنہ دوبارہ انتخابات ہونگے،ایسے تو پی ٹی آئی آمریت کی طرف جارہی ہے،چیف جسٹس پاکستان کسی اور کو پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات لڑنے ہی نہیں دیئے،چیف جسٹس 

سینیٹ میں بھی اگر ایک بھی ووٹ نہ پڑے تو وہ منتخب نہیں ہوتے۔ 

چیف جسٹس پاکستان  نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی پوری باڈی بغیر مقابلے کے آئی،پی ٹی آئی میں لوگ الیکشن سے نہیں سلیکشن سے آئے،پی ٹی آئی نے مخالف جماعتوں کو خود تنقید کا موقع دیا ہے،وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ سیاسی جماعتوں میں بلامقابلہ سربراہان منتخب ہوتے ہیں،ن لیگ میں بھی نواز شریف،مریم نواز سمیت چھ لوگ بلامقابلہ سربراہ بنے،چیف جسٹس  نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں کچھ لوگ بلامقابلہ منتخب ہوتے سب تو نہیں ایسے آجاتے،جسٹس مسرت ہلالی  نے کہا کہ اے این پی کو بھی انٹرا پارٹی انتخابات پر شاید جرمانہ لگا ہے،چیف جسٹس پاکستان  نے کہا کہ پی ٹی آئی کا پارٹی فنڈنگ سمیت الیکشن کا معاملہ پرانا چل رہا ہے،ملک کون چلاتا ہے وہ سیاسی جماعت جو منتخب ہوجائے،

سیاسی جماعت کا تو نام ہوتا ہے وہ لوگ کون ہوتے جو ملک چلاتے ہیں،لوگ اعتراض کر سکتے کہ ملک غلط لوگوں کے حوالے کر دیا ہے،عوام کو کیسے پتا چلے گا کہ کون لوگ منتخب ہوئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے پارٹی آئین میں کہیں بلامقابلہ انتخاب کا نہیں لکھا،وکیل علی ظفر نے جواب دیا کہ ووٹنگ ہوتی ہی تب ہے جب ایک سے زیادہ امیدوار ہوں، چیف جسٹس نے کہا اگر چیئرمین کے واحد امیدوار کو ہی لوگ پسند نہ کرتے ہوں تو کیا ہوگا؟کل کو بغیر ووٹنگ حکومت میں لوگ آجائیں تو پھر اعتراض تو ہوگا،ملک چلانے کیلئے معیشت بارے اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں،آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کرنا ہوتے ہیں غیر منتخب لوگ کیسے اتنے اہم فیصلے کریں گے،پی ٹی آئی نے الیکشن کیوں نہیں کرایا آخر مسئلہ کیا تھا؟پی ٹی آئی کی فنڈنگ کا بھی 2014 سے معاملہ پڑا ہے جو آپ چلنے نہیں دیتے۔

چیف جسٹس  نے کہا کہ پی ٹی آئی کیخلاف الیکشن کمیشن اب کوئی ایکشن لیتا تو اعتراض بنتا تھا،مئی 2021 سے الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان سے متعلق نوٹس کیا،پی ٹی آئی نے کرونا کا بہانہ کر کے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے،اگر جماعت میں آپ پرانے لوگ رکھیں تو ان کو تجربہ ہوتا ہے،پرانے لوگوں کو ساتھ رکھنے کا فائدہ ہوتا ہے،اکبر ایس بابر کا پی ٹی آئی بانی ارکان میں ذکر ہے،یہ بات تو واضح ہوگئی کہ اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے بانی رکن ہیں،پی ٹی آئی پر غیر حملہ نہیں کر رہا اپنے ہی انکے لوگ ہیں،پی ٹی آئی کے اپنے لوگ کہہ رہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن کرائیں،کل کو بیرسٹر گوہر وزیراعظم بن گئے تو کیا انہیں پارٹی کے لوگ جانتے ہونگے،وکیل علی ظفر  نے جواب دیا کہ آپ اختلافی نکتہ نظر بھی سنتے ہیں جو اچھی بات ہے، چیف جسٹس پاکستان آپ ہمیشہ پروفیشل انداز میں دلائل دیتے ہیں،بغیر انتخاب بڑے لوگ آجائیں تو بڑے فیصلے بھی کرینگے، لوگ اپنے منتخب افراد کو جانتے تو ہوں۔ 
چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار  کیا کہ کسی جماعت کی فنڈنگ کا معاملہ ہو تو کہاں چیلنج ہوگا؟وکیل علی ظفر نے کہا کہ فنڈنگ کا معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا،چیف جسٹس نے کہا اگر الیکشن کمیشن فنڈنگ کا معاملہ دیکھ سکتا ہے تو پارٹی انتخابات کا جائزہ کیوں نہیں لے سکتا،پی ٹی آئی کو اپنی تمام دستاویزات واضح رکھنی چاہیں،پی ٹی آئی کے فیصلوں کے ثبوت نہیں ہونگے تو لوگ اعتراض تو اٹھائیں گے،چیف جسٹس نے سوال کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی بننے کا حق حامد خان کا زیادہ ہے یا بیرسٹر گوہر کا؟پی ٹی آئی نے بعد میں اپنا آئین ہی بدل دیا،الیکشن کمیشن کے پاس تو اتنا اختیار ہے کہ کسی سیاسی جماعت کو مکمل ختم کر دے،کل ہمارے سامنے پرویز مشرف کی جماعت کا کیس آیا اس میں بھی الیکشن کمیشن نے ایسا کیا،اگر قانون پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کیخلاف ایکشن لے گا۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی میں لوگ الیکشن سے نہیں سلیکشن سے آئے،چیف جسٹس