’بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی پر ہمیں کوئی اعتبار نہیں‘

Jul 12, 2023 | 15:35:PM
’بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی پر ہمیں کوئی اعتبار نہیں‘ جسٹس اعجاز الحسن کے وکلاء انرولمنٹ کیس میں ریمارکس
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری) وکلاء کی جعلی ڈگریوں اور انرولمنٹ سے متعلق کیس میں جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی پر ہمیں کوئی اعتبار نہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی نے اس معاملے کوخراب کیا، عدالت نے وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو بھی آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں وکلاء کی جعلی ڈگریوں اور انرولمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ تمام انکوائریاں ان لاء کالجز کیخلاف ہورہی ہیں جن کے الحاق ختم ہوچکے ہیں، ہمیں انکوائری میں پیش ہونے کا موقع بھی نہیں دیا جا رہا، ہمیں جے آئی ٹی کے سامنے ریکارڈ پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے، سپریم کورٹ نے پہلے حکم دیا تھا اب کیس دوبارہ نہیں کھول سکتے، عدالت فیصلے کریگی کہ انکوائری درست ہوئی یا نہیں، ایف آئی اے انکوائری صرف موجودہ کیسز کیلئے نہیں، مستقبل میں بھی اس کی بنیاد پر لاء کالجز کا الحاق ختم کیا جاسکتا ہے۔

سربراہ ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار حسن رضا پاشا نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ میں الحاق شدہ لاء کالجز کی تفصیلات پیش ہوچکی ہیں، رپورٹ کے مطابق 6227 طلبہ نے داخلہ ٹیسٹ دیا، رپورٹ کے مطابق 3997 طلبہ کو جعلی اور 2230 کو جینوئن قرار دیا گیا، جے آئی ٹی نے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی اور کالجز کیخلاف مقدمات درج کرنے کی سفارش کی، جے آئی ٹی نے کہا کہ مستقبل میں ایسی جعل سازی روکنے کیلئے سخت اقدامات کرنے چاہیئے، جب یونیورسٹی لاء کالجز سے الحاق کرتی ہے تو کوئی معیار نہیں دیکھا جاتا، دو دو کمروں پر مشتمل یونیورسٹیاں قائم ہوچکی ہیں۔

حسن رضا پاشا نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی نے کہا 26 لاء کالجز کے کوئی اصول و ضوابط ہی نہیں ہیں، یونیورسٹی وزٹ پر ہمیں بتایا گیا کہ ہم لیکچرز یوٹیوب پر اپلوڈ کرتے ہیں طلباء وہاں سے دیکھ لیتے ہیں، اگر طلباء نے یوٹیوب سے پڑھنا ہے تو لاکھوں کی فیسیں کیوں لی جارہی ہیں؟

جسٹس حسن اظہر رضوری نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پروفیسرز، لیکچررز اور ٹیچرز کی قابلیت سے متعلق کوئی ڈیٹا طلب کیا؟ کیا ٹیچرز کی ڈگریوں کی تصدیق بھی کی جا رہی ہے؟حسن رضا پاشا نے کہا کہ جی باقاعدگی سے ٹیچرز کے ڈیٹا کی بھی سکروٹنی کی جارہی ہے، یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کا عملہ گھپلے کررہا ہے، 3 لاکھ طلباء کو پچھلی تاریخوں میں داخلہ دے دیا جاتا ہے، جن کالجز کا الحاق ختم ہوگیا وہ اب بھی طلباء کو بلیک میل کرکے پیسہ مانگ رہے ہیں، جو طلباء فیل ہوگئے انہیں دوبارہ داخلے دیے گئے، عدالت اس حوالے سے سخت آرڈر پاس کرے۔

یہ بھی پڑھیے: توشہ خانہ کیس،عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی آخری بار درخواست منظور

سپریم کورٹ  نے کہا کہ ایڈووکیٹ احمد اس معاملے میں عدالت کی معاونت کریں، عدالت نے وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا،عدالت نے کہا کہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی لاء کالج کا ریکارڈ بھی ساتھ لائیں، سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی، عدالت نے کہا کہ پاکستان بار کونسل فیکلٹی ممبران کی سکروٹنی سے متعلق رپورٹ جمع کرائے، عدالت نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے نان پریکٹس الاؤنس پالیسی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایف آئی اے رپورٹ کی کاپی تمام فریقین کو فراہم کرنے کا کہیں گے اگر اس حوالے سے سخت آرڈر پاس کرنا پڑا تو وہ بھی کریں گے، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی پر ہمیں کوئی اعتبار نہیں، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی نے اس معاملے کو خراب کیا۔

وکیل احمد قیوم نے کہاکہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے حق دار طلباء کی سکروٹنی ہونی چاہیئے، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہم اس ڈیٹا کو ڈبل چیک کروائیں گے، عدالت نے  کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کردی۔