بشریٰ بی کی ڈائری ، پھٹے ہوئے صفحات بھی منظر عام پر آگئے 

عامر رضا خان 

Aug 11, 2023 | 15:43:PM
بشریٰ بی کی ڈائری ، پھٹے ہوئے صفحات بھی منظر عام پر آگئے 
کیپشن: عامر رضا خان
سورس: 24urdu.com
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

دھماکہ خیز انکشافات ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے بشریٰ بی بی کی ڈائری نہیں آئین اکبر کا کوئی باب ہے کہ جس میں اوزان سے لیکر کھانے پینے تک اور شادی بیاہ کہ خفیہ معاملات سے سلطنت چلانے تک کے تمام معاملات درج ہیں ،اب تک جو کچھ میڈیا نے بتایا اس ڈائری میں اس سے بھی زیادہ ہے صرف چند صفحات کو ہی میڈیا تک رسائی ملی ہے یعنی پکچر ابھی آدھی ہے پوری فلم تو ابھی باقی ہے ،اب تک منظر عام پر آنے والے حقائق کے مطابق  میڈیا کی زبانی کچھ یوں ہیں ۔

ضرورپڑھیں:عمران خان کی بیرک میں نورانی بزرگ کا ظہور 
بشریٰ عمران خان کو کیسے اور کس حد تک کنٹرول کرتی ہے، نا قابل تردید ہوشربا اور چشم کُشا انکشافات سامنے آ گئے، بشری کے اپنے ہاتھوں سے لکھی ڈائری یہ ثابت کرتی ہے کے عمران خان بشری کے مکمل تسلط میں ہے اور اسکے احکامات پرچلتا ہے ،یہ بات اِن الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے جس میں بشریٰ عمران خان کو سیاسی ڈکٹیشن کروا رہی ہے اور یہ تک بتا رہی ہے کے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمتِ عملی کس وقت کیا اور کیسے ہوگی اور کون کیسے عدلیہ، فوج اور حکومت پریشر ڈالے گا؟وہ یہ سب احکامات عمران خان کو دے رہی ہے کہ کیسے گورنمنٹ، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر پریشر ڈالنا ہے اور کس کو کیسے چلانا ہےاِس ڈائری میں بشری یہ احکامات دے رہی ہے کے ایسی فضا بنائی جائے اور اتنا پریشر ڈالا جائے کے عدالت کوئی منفی فیصلہ نہ کر سکےان انکشافات میں سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کے اللہ تعالیٰ سے کیا دعا اور کن لفظوں کے ساتھ مانگنی ہے وہ بھی بشریٰ عمران خان کو ڈائری میں لکھ کر ڈکٹیٹ کر رہی ہیں، دعا کے اندر ہوشیاری سے اِس نے عمران خان کو جو باغیانہ الفاظ استعمال کر وا کر انقلاب کی ذہن سازی کی ہے وہ چشم کُشا ہے اِس ڈائری میں اور کیا کیا ہوشروبا انکشافات سامنے آ چکے ہیں خود نیچے پڑھ کر جانئے:
 بشری ڈائری میں لکھتی ہیں کہ
"اگر گورنر راج لگائیں تو قانونی ٹیم اور شہر بند کرنے کی تیاری کی جائے یعنی کہ پہیہ جام ہڑتال کی جائے"
 
"کل سے اتنا پریشر دینا ہے کے عدالت کوئی نیگیٹو فیصلہ نہ دے سکے یعنی بہت لوگ ہوں"

"پہلے اناؤنس نہیں کرنا اور پارٹی کو نہیں بتانا کہ آپ کتنے دنوں کے لئے آ رہے ہیں"

"صبح سے عوامی فضا بنا دینی ہے کہ عدالت کوئی منفی فیصلہ نہ کر سکے بہتر یہ ہے کہ بڑے بڑے وکیلوں سے بیان دلوائیں،بس ایک پریشر رکھنا ہے"
 
وکیلوں نے جو کچھ اہم سوال کرنے ہیں اور خان نے نہیں بولنے وہ یہ ہیں:

”ہم جو بھی درخواست لے کر جاتے ہیں انصاف کے لئے وہ کیوں نہیں سنی جاتی؟“ 

”بندیال آ گیا ہے، نواز نے کہا تھا کہ اب دیکھتے ہیں یہ گورنمنٹ کیسے رہے گی“

”خواجہ (حارث) صاحب سوال اٹھائیں کے اعظم سواتی کے کیس میں اُنکے مقامی سہولت کار کون تھے؟“

”کون ہے جو پاکستان کے حالات خراب کرنا چاہ رہا ہے؟“

آپ کو یہ یقین آ جائے کہ یہ مستند معلومات ہیں تو آپ کو یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ اِس ڈائری میں عمران خان کس وقت کیا اور کیسے کھائے گا،وہ احکامات بھی صادر فرمائے گئے ہیں 
 
جیسا کے صبح اٹھتے ہی قہوہ+شہد +جوس پینا ہے۔
 
دوپہر کو صرف کباب+ گوشت+مچھلی کھانی ہے وٹامنز کے ساتھ
 
حیران کن طور پر دودھ رات صرف بارہ بجے پینے کی اجازت دی گئی ہے

غرض یہ کہ اِس تحریر کو پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ عمران خان کی سوچ اورشخصیت بشری کی مکمل قید میں ہے اور وہ  بلاوجہ  بشری کو مرشد نہیں کہتا
 یہ بھی پڑھیں:عمران خان کو ’ارینج میرج‘مہنگی پڑی
 
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ  اِس ڈائری سےعجلت میں چند صفحات کو پھاڑا گیا ہے ان صفحات میں کیا ہے ؟ یہ سوال تو جنم لے رہا ہے لیکن جنہوں نے یہ اوراق پھاڑے ہیں انہوں نے اس کی ایک ٹائم، لائن بھی سیٹ کی ہے جنہیں وقت آنے پر منظر عام پر لایا جائے گا ،ان صفحات میں وہ عملیات اور ٹونے ٹوٹکے بھی ہیں جس کی مدد سے بڑے بڑے اعلیٰ اداروں کے اعلیٰ عہدیداروں کو قابو کرنے ، مردوں کی ہڈیوں کے مسان کو دشمن کو مٹانے کے عملیات وغیرہ بھی درج ہیں اور ان  پھاڑے ہوئے اوراق بعد میں  بھی سامنے آ سکتے ہیں جس کے بعد معاملات اور سنگین ہو سکتے ہیں،ہم سب دعا کرتے ہیں کے اللہ تعالیٰ اِس ملک کو ایسے لیڈرز عطا کرے جو آزاد سوچ رکھتے ہوں اور حقیقی آزادی کا جھوٹا نعرہ لگانے والا پہلے اپنے آپ کو ذہنی طور پر آزاد تو کر لے،اللہ نہ کرے کہ عوام کو اِس ڈائری کے وہ  اوراق نا پڑھنے کا موقع ملے وگرنہ لوگوں کا پاکستان کی سیاست سے ہمیشہ کے لئے کہیں اعتماد ہی نہ اٹھ جائے۔

ضروری نوٹ:ادارے کا بلاگر کے ذاتی خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر

Amir Raza Khan

عامر رضا خان سٹی نیوز نیٹ ورک میں 2008 سے بطور سینئر صحافی اپنی خدمات سرانجام دے رہے۔ 26 سالہ صحافتی کیریر مٰیں کھیل ،سیاست، اور سماجی شعبوں پر تجربہ کار صلاحیتوں سے عوامی راے کو اجاگر کررہے ہیں