صدر مملکت کا اختیار ختم: وفاقی حکومت نے بڑا سرپرائز دے دیا

Jul 05, 2022 | 16:32:PM
صدر مملکت عارف علوی،وزیراعظم،وفاقی کابینہ،نیب ترمیمی بل،منظوری
کیپشن: احتساب عدالتوں کے ججز کی تقرری کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس رہے گا/ فائل فوٹو، گوگل سورس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز) وفاقی کابینہ نے نیب (تیسری ترمیم) بل 2022 منظور کرلیا۔ احتساب عدالت کے ججوں کی تقرری سے متعلق صدر کا اختیار بھی ختم کر دیا گیا۔

 ذرائع کے مطابق نیب 5 سو ملین روپے سے کم کے کرپشن کیسز کی تحقیقات نہیں کر سکے گا۔ احتساب عدالت کے ججوں کی تقرری سے متعلق صدر کا اختیار بھی ختم کر دیا گیا۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کی مدت ملازمت میں 3 سالہ توسیع کی جا سکے گی۔

یہ بھی پڑھیں:قومی سلامتی کمیٹی کا اِن کیمرا اجلاس: سیاسی و عسکری قیادت شریک

 نیب قانون کے سیکشن 16 میں بھی ترمیم کر دی گئی۔ کسی بھی ملزم کے خلاف اسی علاقے کی احتساب عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکے گا جہاں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو، سیکشن 19 ای میں بھی ترمیم کر دی گئی۔

 نیب کو ہائی کورٹ کی مدد سے نگرانی کی اجازت دینے کا اختیار واپس لے لیا گیا۔ ملزمان کے خلاف تحقیقات کے لیے کسی سرکاری ایجنسی سے مدد نہیں لی جا سکے گی۔ ملزم کو اس کے خلاف الزامات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ عدالت میں اپنا دفاع کر سکیں۔

 احتساب عدالتوں کے ججز کی تقرری کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس رہے گا۔ سیکشن 31B  میں بھی ترمیم کر دی گئی۔ چیئرمین نیب فرد جرم عائد ہونے سے قبل احتساب عدالت میں دائر ریفرنس ختم کرنے کی تجویز کر سکیں گے۔