ملک کیخلاف استعمال ہونیوالا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند ہونا چاہئے، سلیم بخاری

May 30, 2024 | 00:32:AM
ملک کیخلاف استعمال ہونیوالا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند ہونا چاہئے، سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (فرخ احمد)   عدت میں نکاح کیس پر دن بھر کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی اور معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے اپنی  رائے  کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس  قسم کا رویہ  پی ٹی آئی کے وکلاء کی جانب سے اختیار کی گیا ہے  یہ کسی طرح سے بھی مناسب نہیں ہے اس کو وکلاء گردی کہا جائے تو یہ مناسب تو نہ ہوگا لیکن اس کو اور کیا کہا جائے  یہ کسی طرح سے بھی قابل برداشت نہیں ہے کہ وکلاء درخواست گزار کے ساتھ اس قسم کا تشدد کریں۔انہوں نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی جانب سے اس  الزام کے جواب میں کہا کہ عدت کے کیس میں  ان نکات پر بھی بحث کی جاتی ہے ،سوالات اور دلائل دیے جاتے ہیں جو کہ عام طور پر شاید مناسب نہ سمجھے جاتے ہوں ۔ لیکن کیا ان کو فحش گفتگو کہا جاسکتا ہے؟ بالکل بھی نہیں ۔

سلیم بخاری کا کہنا تھا کیا یہ غیر مناسب نہیں کہ ایک بندہ کسی کی بیوی کو ہی جھانسے میں پھنسا کر لے جائے او ر ایک ہنستا بستا گھر ہی اجاڑدے۔کیا بیتے گی اس شخص پر اس کے بچوں پر ؟

وزیر اعلیٰ کے پی کی دھمکی پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور  نوری نت بنے ہوئے ہیں اور وہ غیر مناسب ، غیر جمہوری رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ان کے بیانات کسی بھی طرح کسی صوبے کے وزیر اعلیٰ کے شایان شان نہیں ہیں۔ ان کی اس دھمکی کے جواب میں کہ تربیلا ڈیم سے ایک بٹن آف کرنے کی دیر ہے آدھا پاکستان تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ سلیم بخار ی کا کہنا تھا کہ ڈیمز تو وفاقی حکومت کے زیر کنٹرول ہوتے ہیں وزیر اعلیٰ کے پی کس طرح دعویٰ کر سکتے ہیں کہ میں یہ کر دوں گا وہ کر دوں گا یہ کسی پنجابی فلم کے ولن کےڈائیلاگ تو ہو سکتے ہیں لیکن وزیراعلیٰ کے نہیں۔

سینئر صحافی نےبانی  پی ٹی آئی کے ٹویٹر سے ہونے والی متنازعہ  ٹویٹ پر اپنی رائےکا اظہار کرتے ہوئے کہا  کہ جو شخص جیل میں قید ہے وہ کیسے سوشل میڈیاکو استعمال کر رہا ہے اور وہ اپنے سوشل میڈیا پر ڈال کرکہہ رہاہےاپنے ہی ملک کے خلاف زہریلا مواد ،تو پھر چاہے وہ اکاؤنٹ وہ خود استعمال کر رہا ہو یا ان کا اکاؤنٹ کوئی اور استعمال کر رہا ہے اس کو بند ہونا چاہیے جس سے زہریلا پروپیگنڈا ہورہا ہے۔

سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ 1971 ایک حادثہ تھا جس میں ملک دو ٹکڑے ہوا،  ہم تو اس کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتے۔اس میں ملوث کردار کون تھےکس کی وجہ سے ہوا اور اس کے ذمہ داران کون کون تھے ۔خان صاحب بار بار جو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کا جوا زپیش کر رہے ہیں ا س میں بھی کئی ایسی چیزیں نکلیں گی جو نہیں کہنی چاہیے۔جب اس قسم کی باتیں بانی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سے بھیجی جائیں گی تو پی ٹی آئی کے جتنے بھی فالورز ہیں وہ یقین کریں گے کہ یہ خان صاحب ہی کہہ رہے ہیں۔بانی پی ٹی آئی کیا اپنے آپ کو شیخ مجیب سمجھتے ہیں اور وہ کیا ملک توڑنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف الیکشن کمیشن کی کارروائی کو کالعدم قراردینےکی لاہور ہائیکورٹ  کی درخواست پر معروف تجریہ کار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کیا ہے، الیکشن کمیشن نے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اقدام کیاکیونکہ اگر کسی پارٹی  کا انٹرا پارٹی الیکشن ہی متنازعہ ہے تو پھر وہ کس طرح الیکشن لڑ سکتی ہے۔ لیکن عدالت کا راستہ کھلا ہے تحریک انصاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے۔

صدر مسلم لیگ نواز شریف  نے اہم محاذ سنبھال لیا ،عوام کو کیسے ریلیف دیا جائےبجٹ کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا گیا، نواز شریف اور شہباز شریف کی زیر صدارت جاتی امرا میں بجٹ مشاورتی اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز،وفاقی اور صوبائی وزراکی شرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ نواز شریف ہمیشہ سے عوامی سیاست کرتے ہیں اور اُن کی پہچان ہی عومی فلاح و بہبود کے منصوبے ہیں۔ان کو پتہ ہے کہ عام آدمی کی نفسیات کیا ہیں اور ان کا خیال کیسے رکھا جاتا ہے۔ان کو پتہ ہے کہ اگر عام آدمی کو ریلیف دیا جائےگا تو وہ الیکشن والے دن کبھی بھی نہیں بھولتا۔اسی لیے اب پنجاب حکومت نے 200 یونٹ تک کے صارف کیلئے سولر پینل اور اسی طرح کسانوں کو بھی کسان کارڈ اور سبسڈائزکھاد اور ڈی اے پی کیلئے سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے معاملے پر فارمولا طے پا گیا اس پرسلیم  بخاری نےکہاکہ علی امین گنڈا پور کی ملاقاتوں کے بعد یہ دوسرا اشارہ ہے جس سے یہ اندازہ ہو رہا کہ شاید پی ٹی آئی سسٹم میں شامل ہونا چاہتی ہے اور یہ سسٹم کا حصہ بننے جارہی ہے،یہ ایک اچھا سائن ہے۔

سینئر صحافی کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی خوشخبری سناتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات میں کمی کا  فائدہ عام آدمی کو پہنچنا چاہیے۔تاکہ مہنگائی کے ستائے ہوئے  غریب عوام کو کچھ سکھ کا سانس مل سکے۔اسی طرح ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی حالیہ دنوں میں 60 سے70 کمی دیکھنے میں آئی ہے اور امید کی جارہی ہے کہ ایل پی جی کا ایک اور جہازدو تین روز میں پاکستان پہنچ جائے گا جس سے پاکستانی عوام کو مزید ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

دیگر کیٹیگریز: ضرور پڑھئے - انٹرویوز
ٹیگز: