کامیاب کرکٹر بنا۔نمل یونیورسٹی بنائی۔ہسپتال بنایا۔وزیرا عظم بھی بن گیا۔اب یہ قوم عظیم قوم بنے گی۔عمران حان

Nov 24, 2021 | 18:36:PM
نمل یونیورسٹی۔کرکٹر۔نوجوان ۔کنونشن۔ججز
کیپشن: عمران خان نوجوان پروگرام کنونشن سے خطاب کررہے ہیں۔

(24نیوز)وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو بڑی سوچ اور بڑے خواب رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب میں سیاست میں آیا تو 14 سال تک میرا مذاق اڑایا گیا اور کہاگیا کہ دو پارٹی نظام ہے اور تیسری پارٹی نہیں آسکتی لیکن جب ہماری پارٹی آگئی تو تین سال سے سن رہا ہوں تم فیل ہوجاو¿ گے۔آپ جان لیںیہ قوم وہ قوم بننے جارہی جس کا آپ ابھی تصور نہیں کرسکتے، اللہ نے اس قوم کو سب کچھ دیا ہوا ہے، مجھے کوئی شک نہیں یہ قوم عظیم قوم بنے گی۔

بدھ کو یہاں اسلام آبادمیں کامیاب نوجوان پروگرام کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہکہ مجھے افسوس ہے کہ ججز کی کانفرنس میں ایک سزا یافتہ ملزم سے تقریر کرائی گئی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم تب تباہ ہوتی ہے جب چوری کو برا نہیں سمجھا جاتا، جس قوم کی اخلاقیات ختم ہوجائے یا ان میں اچھے برے کی تمیز ختم ہوجائے وہ قوم ختم ہوجاتی ہے، مدینہ کی ریاست کی بنیاد اخلاقیات پر رکھی گئی تھی۔عمران خان نے کہا کامیاب وہ نہیں ہوتا جو ذہین ہوتا ہے بلکہ کامیاب وہ ہوتا ہے جو بڑی سوچ، بڑا خواب رکھتا ہے اور اس کے بعد ہار نہیں مانتا ہے،، انسان کے کردار کی پہچان برے وقت میں ہوتی ہے، مشکل وقت میں پتہ چلتا ہے کہ انسان کا کتنا کریکٹر ہے۔ کامیابی کا راز یہ ہے کہ بڑی سوچ رکھنا، خواب جتنا بڑا ہوگا اتنا بڑا انسان ہوگا، اللہ نے انسان کو طاقت دی ہے، جتنا خود کو آزماو¿گے، چیلنجز کاسامنا کروگے اتنا بڑے انسان بنتے جاو¿گے۔انہوں نے کہا کہ میں 9سال کا تھا تو اپنی والدہ کے ساتھ لاہور اسٹیڈیم میں ٹیسٹ میچ دیکھنے گیا تھا، اپنی والدہ کو کہا کہ میں ٹیسٹ کرکٹر بننا چاہتا ہوں، سب نے مجھے کہا کہ تم ٹیسٹ کرکٹر نہیں بن سکتے، میں نے محنت کی غلطیوں سے سیکھا اور اللہ نے مجھے کامیابی عطا کی۔وزیراعظم نے کہا کہ شوکت خانم اسپتال بنانے لگا تو کہا گیا کہ اسپتال نہیں بن سکتا، پھر نمل یونیورسٹی بنائی تو کہا دیہات میں کوئی پڑھانے نہیں آئے گالیکن مجھے کامیابی ملی۔پھر جب میں اقتدار میں آگیا تو کہا گیا کہ کامیاب نہیں ہوسکتے، کوئی بھی انسان آج تک محنت کیے بغیر کامیاب نہیں ہوا، کوئی بھی انسان شارٹ کٹ کے ذریعے کامیاب نہیں ہوسکتا، بڑی سوچ رکھنے والا شخص ہی بڑا آدمی بن سکتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ 2016 میں پاناما کیس آیا، دنیا میں جنہوں نے اپنا پیسہ چھپا کر آفشور اکاو¿نٹس میں رکھے تھے، ان کا نام آیا، ان میں سے ایک نام آیا لندن کے مہنگے ترین علاقے میں فلیٹ ہیں اور ان کی مالکہ مریم صفدر تھیں۔انہوں نے کہا کہ بات یہاں سے شروع ہوئی، اس کے بعد عدالت میں کیس گیا، اس کے بعد جے آئی ٹی بنی اور پھر سپریم کورٹ میں آیا اور فیصلہ کیا گیا کہ نواز شریف کو سزا ہوگئی۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں اور پاکستانیوں کو لندن میں 4 فلیٹس کے پیسے کہاں سے آئے یہ بتانے کے بجائے پہلے مجھے کیوں نکالا، عدلیہ کو برا بھلا، پھر پاکستانی فوج کو برا بھلا اور مجھے تو وہ بہت ظالم کہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ جواب دیں کہ آپ نے یہ 4فلیٹس لئے کدھر سے، ساری چیزیں کر رہے ہیں لیکن جواب نہیں دے رہے ہیں، میرے اوپر کیس کیا، میرا لندن میں فلیٹ تھا تاہم سپریم کورٹ میں 40 سال پرانے معاہدے کے کاغذات دیے جبکہ میں تو عہدیدار نہیں تھا ایک کھلاڑی تھا اور عدالت نے جو مانگا وہ میں نے دے دیا، 10 مہینے لگے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہلے اسمبلی میں جھوٹ بولا، پھر قطری خط آگیا، وہ فراڈ نکلا، پھر کلیبری فونٹ آگئی وہ بھی فراڈ نکلی، اور ابھی تک وہ ایک کاغذ نہیں دے سکے کہ لندن کے فلیٹ کن پیسوں سے لئے گئے کیونکہ چوری کا پیسہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ افسوس اس چیز کا ہے، لاہور میں ایک تقریب ہوتی ہے، وہاں سپریم کورٹ کے ججز بلایا جاتا ہے اور ادھر جس کو سپریم کورٹ نے سزا دی ہے، جس جھوٹ بول کر ملک سے باہر بھاگا ہوا ہے، وہ تقریر کر رہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ قوم کبھی پیسہ چوری سے ختم نہیں ہوتی، لیکن قوم تب تباہ ہوتی ہے جب چوری کو برا نہیں سمجھا جاتا، جب ایک قوم کی اخلاقیات ختم ہوتی ہے تو قوم ختم ہوجاتی ہے ۔عمران خان نے کہا کہ جب تک ہم اپنا اخلاقی معیار اوپر نہیں اٹھائیں گے، ہم ادھر نہیں پہنچ سکتے جہاں ہمیں پہنچنا چاہئے، اس لئے رحمت اللعالمین اتھارٹی بنائی ہے تاکہ نبی پاک کے اسوہ حسنہ پر عمل کریں اور ان کی سیرت زندگیوں میں لاگو کریں۔

 وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عثمان ڈار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، عثمان ڈار نے محنت کےساتھ جنون سے کام کیا، بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ کچھ نہیں ہوگا لیکن عثمان محنت کرتا رہا، کامیاب جوان پروگرام ہمارے منصوبوں میں سب سے زیادہ کامیاب ہوگا ۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا پر مشکل وقت آیا ہوا ہے، یہ سب کورونا کی وجہ سے ہوا، لیکن ہم پاکستانی معیشت کو بہتری کی طرف لے کر گئے، ہماری پالیسی کی تعریفیں دنیا میں دی گئیں، پاکستان میں پہلی بار گھر بنانے کیلئے حکومت سود کے بغیر قرضے دے گی، صحت انصاف کے ذریعے عوام 7 سے 10 لاکھ روپے تک کا علاج کسی بھی اسپتال میں کرواسکیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج کل ہر طرف ٹیپس نکل رہی ہیں، ججز کے نام آرہے ہیں، یہ سب ڈرامہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔مریم نواز کی اپنی وائرل آڈیو کی تصدیق۔۔مزید کتنی آڈیو، ویڈیو آئیں گی؟؟