عمران خان کے بعدکیا ہوگا؟

توقیر کھرل |  عمران خان جِن پُرکشش نعروں سے دورِ حکومت میں آئے تھے کیا وہ تبدیلی آئی؟ ساڑھے تین سالہ دور ِحکومت میں کیا ایک دن بھی اس جدوجہد میں تسلسل نظر آیا جو بائیس سال سے جاری تھی؟

Nov 20, 2022 | 13:10:PM
عمران خان, تحریک انصاف , آرمی چیف , لانگ مارچ ,24 نیوز,بھٹو
کیپشن: تحریک انصاف کے کارکنان بھی زندہ ہے عمران خان زندہ ہے کے نعرے لگاتے لگاتے تھک جائیں گے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عمران خان کے بعد کیا ہوگا سے  اہم سوال یہ ہے کہ عمران خان کے ہونے سے کیا ہوا؟  عمران خان جِن پُرکشش نعروں سے دورِ حکومت میں آئے تھے کیا وہ تبدیلی آئی؟ ساڑھے تین سالہ دور ِحکومت میں کیا ایک دن بھی اس جدوجہد میں تسلسل نظر آیا جو بائیس سال سے جاری تھی؟ ابتداء میں سابق حکومتوں کی طرح خزانہ خالی ہے کا شور مچادیا اور پڑوسی و دیرینہ دوست ممالک سے قرض لیکر ملک کو استحکام کی طرف لانے کی کوشش کی۔ یعنی وہی سب کیا جو سب جمہوری حکمران کرتے آئے ہیں۔ جتنی دیر حکومت کرنے کی مہلت ملی کچھ نہ کرسکے تو اپوزیشن کو للکارنا جاری رکھا۔ عوام بھی خوش رہے۔ اپوزیشن بھی متحد ہوگئی جن کا نہ تو نعرہ ایک تھا نہ پرچم لیکن اپنے وجود کے خطرے کو بھانپتے ہوئے اکیلے عمران خان کے خلاف متحد ہوگئے۔ جب خان اکیلا نہ چل سکا، وہ نہ کرسکا جو کرنے کا عزم تھا ،تو پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے یہ خود انکشاف کیا  کہ میری حکومت تو کوئی اور چلا رہا تھا۔ یعنی خان صاحب بے بس تھے۔اختیار ہی نہیں تھا۔جدوجہد نظریہ اور تبدیلی کا نعرہ ایک طرف،دورِ حکومت میں بے بسی ایک طرف۔

یعنی عمران خان کسی نظریہ کا نام نہیں۔حالات کے کروٹ لیتے ہی تبدیلی کا نعرہ لگا کرحکومت حاصل کرلی۔حکومت ملی تو روحانیت پھیلانے گے  صبر شکر کے دروس ہوئے۔ایران کادورہ کیا تو ایران جیسا انقلاب لانے کا اعلان،چین کی طرف رُخ کیا تو چین جیسا نظام لائیں گے۔پاکستان کے عوام کی ذہنیت کو پرکھتے ہوئے اسلامی فلاحی ریاست کا نعر ہ مستانہ بھی گونجنے لگا۔ یعنی نظریہ کوئی مشخص نہیں بلکہ ہر معاملہ میں اپنا بیانیہ لانچ کردو اور عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادو۔حکومت ختم ہوئی امریکی سازش ہے۔لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جہاد ہورہا ہے۔

ضرور پڑھیں : فلم ’’جوائے لینڈ ‘‘پر اتنا ہنگامہ کیوں؟

بغیر کسی ایک نظریہ پہ قائم ہوئے نظریہ ضرورت کے تحت پُرکشش نعروں سے سفرِتبدیلی جاری ہے جس کی کوئی منزل ہے نہ ہدف۔جب کسی شخص کا نظریہ یا ہدف متعین نہ ہو تو وہ شخص محض عوامی ردعمل اور زبانِ خلق کا اچھا ترجمان تو بن سکتا ہے مگر کوئی نظریاتی شخص نہیں۔جہاں مشکل  نظر آئی  یوٹرن لے لیا۔اللہ اللہ خیر سلا۔

اگر یہ سب پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن میں لاہور کے کسی عالم دین کا نام بھی ذہن میں آرہا ہے تو میرا دوش نہیں۔ہر نیا  نظریاتی ایسا متشدد ہوتا ہے" پہلے والوں کو رد کردو پھر جب قدم جمالئے تو جیسے باس کی مرضی"_

اچھا با ت خان صاحب کی ہورہی تھی۔ دوسرے سیاستدانوں سے موازنہ کیا جائے تو خان صاحب کی سیاست میں فرق صرف اتنا ہے باقی سیاست دانوں نے کرپشن کی تھی اور بدنام بھی تھے عمران خان پر ایسا کوئی داغ نہیں تھا۔جب گھڑی چور کا داغ لگانے کی کوشش کی گئی تو کیچڑ میں کپڑے داغدارکرنے والوں کے اپنے ہی کپڑے گندے ہوئے۔ خان کا دامن صاف رہا مگر خان صاحب اب نظام ِانصاف سے اس قدر مایو س ہوچکے ہیں کہ عوا م کو بار بار یہی پیغام دیتے ہیں کہ اگر مجھ پہ حملہ کے بعد من مرضی کی ایف آئی آر نہیں ہوئی تو آپ کو کیسے انصاف ملے گا؟ یعنی خان صاحب اب نئے نعرے سے عوام کو مرغوب کرنا چاہتے ہیں۔پس ثابت ہوا عمران خان کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔سوال یہ ہے عمران خان کے بعد کیا ہوگا؟عمران خان کے ہوتے اگر کچھ نہیں ہو ا تو بعد میں بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ہاں البتہ عوام اپنے درمیان سے ایک ایسے شخص سے محروم ہوجائیں گے جو طویل تقریر سے اپنا بیانیہ نافذ کرنے کی کوشش کرتا تھا جو عوامی ردعمل کو اپنابیانیہ بناکر بیچنا جانتا تھا ایک بہترین کھلاڑی کی طرح اچھا کھیل سکتا تھا مگر صرف کھیل سکتا تھا کچھ کرنے سے قاصر تھا۔کھیل کھیلنے سے اکتاتا نہیں تھا۔

فرق کیا پڑے گا؟کچھ بھی تو نہیں عوام کو ہر دور میں ایک ایسا شخص درکار ہوتا ہے جو ان کی غربت کا نوحہ کہے ا ن کے جزبات کی ترجمانی کرے۔عمران خان جائے گا تو ایک اور ایسا شخص آجائے گا جو ذرا اُن سے اچھا پرفام کرلے گا۔بھٹو شہید کے بعد عمران خان ،عمران خان کے بعد کوئی اور۔۔

پیپلز پارٹی کی جیالوں کی پریشانی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک ان کا لیڈر ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ رہنما تھا جیسے تیسے بھی بھٹو زندہ کیا ہوا تھا۔کارکنان سے معذرت کے ساتھ بھٹو اب "مرگیا ہے "۔ اب اچھے سے دفنا دیجئے۔

 بس تاریخ کے پنوں میں اور چند جیالوں کے زندہ رہنے تک دِلوں میں ضرور زندہ رہے گا۔

اگر بھٹو کو اینٹی سٹیلبشمنٹ زندہ سمجھا جاتا تھا تو ہر جمہوری دور میں اینٹی اسٹیلیشمنٹ تحریک کے ساتھ پیپلز پارٹی بھی کھڑی ہوتی۔یہ اعتراض بے جا ہے کہ عمران خان کیسے اینٹی اسٹیلیشمنٹ ہوگیا وہ تو پہلے فوج کے ساتھ تھا توجناب بھٹو شہید بھی تو پہلے اُن کے ساتھ ہی تھے۔

عمران خان کی جدوجہد اور بعد میں عمران خان ازم تب تک زندہ رہے گا جب تک کوئی نیا چہرہ اینٹی اسٹیلیشمنٹ چہرہ نمایاں نہیں ہوتا۔رد ہونے کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان بھی زندہ ہے عمران خان زندہ ہے کے نعرے لگاتے لگاتے تھک جائیں گے۔