دھوتی کو عزت دو

اظہر تھراج

Jan 19, 2023 | 18:02:PM
دھوتی کو عزت دو
کیپشن: اسلام آباد کلب میں دھوتی کرتے میں کھانا پیش نہ کرنے کے شیخ روحیل اصغر کے شکوہ
سورس: 24 NEWS
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

آج کل دھوتی سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنی ہوئی ہے،سوشل میڈیا تو اپنی جگہ اخبارات میں کالم اور الیکٹرونک میڈیا پر پیکجز چل رہے ہیں ،ہر طرف دھوتی ،دھوتی ہورہی ہے،دھوتی کرتہ تو صدیوں سے لباس کے طور پر پہنا جارہا ہے،پنجاب ،بنگال اور بھارت کے رہنے والے لوگوں کا پسندیدہ فیشن بھی ہے،آخر کیا وجہ ہے کہ اس وقت یہ’ دھوتی‘ انٹرنیٹ پر  آگ لگائے ہوئے ہے۔ 

خبر یہ ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اسلام آباد کلب کے مالی معاملات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں آڈٹ رپورٹ طلب کی ہے۔ پی اے سی کو بتایا گیا کہ کلب سالانہ پانچ کروڑ روپے تک خسارے میں ہے۔ دھوتی کرتے میں کھانا پیش نہ کرنے کے شیخ روحیل اصغر کے شکوہ پر پی اے اسی نے اسلام آباد کلب کو ڈریس کوڈ پابندی پر نظرثانی کی ہدایت کردی ہے،اصل وجہ یہ کہ جس نے دھوتی کرتہ  کو موضوع بحث بنایا ہے۔شیخ روحیل اصغر کے ساتھ اسلام آباد کلب کی طرف سے اپنائے گئے اس رویہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ٹوئٹر پر #دھوتی_کو_عزت_دو  کا ٹرینڈ چل رہا ہے۔

شیخ روحیل اصغر مسلم لیگ ن کے رہنما ہیں اور اپنے بیانات کی وجہ سے میڈیا میں ان رہتے ہیں ،گزشتہ دنوں میں بھی انہوں نے ایک بیان میں ’’گالی ‘‘ کو پنجابی کلچر کا حصہ قرار دیا تھا جس پر ان کو خوب تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔اس کے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے کہا تھا کہ ن لیگی رہنما شیخ روحیل اصغر نے پنجاب کے عوام کی توہین کی ہے۔گالی پنجابی کلچر کا حصہ ہے یا نہیں لیکن دھوتی پنجابی ثقافت کا ایک  اہم حصہ ہے،دھوتی ،قیمض اور پگڑی پنجابیوں کا لباس ہے۔پنجاب کی نوجوان نسل تو شاید اس سے ناواقف ہو لیکن یہاں کے بزرگ شہر ی ضرور جانتے ہیں ۔برصغیر کے ہندو رہنما مہاتما گاندھی تو لندن کے سرد موسم میں بھی دھوتی پہنتے تھے۔

ہر علاقے میں دھوتی پہننے کا الگ انداز ہے،کہیں یہ ساڑھی کی طرح پہنی جاتی ہے تو کہیں سادہ طریقے سے ۔بھارتی پنجاب کے سکھ سر پر پگڑی ،اوپر کرتہ اور نیچے دھوتی پہنتے ہیں ،دھوتی کے نیچے کچھا ضرور پہنتے ہیں ۔شلوار اور دھوتی ،جن کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں، کوئی تال میل نہیں پھر بھی ایک دوسرے کے حریف ہیں۔

دونوں ایشیائی لباس کا حصہ ہیں۔ شلوار تو پاکستان کے  قومی لباس کے آدھے حصے میں بھی شامل ہے۔ یہ دونوں خود مشہور ہوئے کہ نہیں پر ان کی بدولت ان کے جوڑی دار خوب مشہور ہو ئے۔شلوار کے ساتھ کئی طرح کے کُرتے فروغ پا گئے۔کئی طرح کی اونچی، نیچی، لمبی، چھوٹی قمیضیں فیشن میں آ گئیں۔ اِدھر لنگی یا دھوتی  دراصل ایک مسکین سا لباس ہی رہی، جس کے ساتھ چاہے کرتا پہن لو یا قمیض اور بنیان کے ساتھ بھی باکمال، جبکہ بڑے بڑے لوگ سیاستدان، افسروں، تھانیداروں کا گھروں میں تخلیے میں یہ بے تکلف سا حلیہ ہے۔ اوران سے بھی بڑھ کر شاعر حضرات کا پسندیدہ لباس ہے بنیان اور لنگی۔ حالانکہ یہ مشہور لوگ اسے چھپ کر پہنتے ہیں ۔سر ِعام پہننے سے گریز کرتے ہیں۔

ان کے گھروں پر کوئی اچانک چھاپہ مار لے تو یہ چھپنے لگتے ہیں یا اسے بدلنے کے لیے دو چار منٹ کے لیے ادھر ادھر ہونے لگتے ہیں۔ دراصل لنگی کے ساتھ ان کی پُر رعب شخصیت کا گراف کچھ نیچے آ جاتا ہے۔ حالانکہ لنگی میںبھی کافی ورائٹی آئی۔ ڈبیوں والی، چارخانوں والی، لائنوں والی،جاپانی لیڈی نے بھی اسے اپنے حسیں گداز بدن کا پہناوا بنایا۔ اور گھبراہٹ میں آدھے کی بجائے پورے جسم کی زینت بنا لیا۔ مگر کپڑا چونکہ محدود تھا اس لیے یہ لباس کافی چست بنا کہ اسے چلنا مشکل ہو گیا کیونکہ اسے پہن کر وہ جاپانی حسینہ، انجمن کی طرح چھلانگیں نہیں مار سکتی تھی۔ تبھی تو اسے پھولوں کو بھی اپنے پہناوے میں شامل کرنا پڑا اور چہرے پر اک ملکوتی مسکراہٹ سائیو نارا سائیو نارا کرکے لانی پڑی۔ سو ادھر ادھر کے مانگے لوازمات سے اس لنگی نما لباس کی عزت رکھنی پڑی۔لاچا بھی دھوتی کی ایک ایک قسم میں ہے،گاؤں میں جب کسی کی شادی ہوتی ہے تو دولہا کو لاچا پہنایا جاتا ہے۔

کچھ لوگ اس پر فخر کرتے ہیں جیسے کہ سندھ دھرتی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی امداد علی سومرو  لکھتے ہیں شیخ روحیل اصغر کو دھوتی کی وجہ سے اسلام آباد کلب میں داخل ہونے سے روکنا تعصب پرستی ہے، دھرتی کی تہذیب اور ثقافتوں کے  ایک انتہا پسند ٹولے نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک اسی طرح مذاق اڑایا ، تضحیک کی ،پنجابی ثقافت ان بابوؤں کی مسلط کردہ ثقافت سے زیادہ عظیم اور قدیم ہے۔

سینئر  صحافی عامر متین نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ پنجابی دھوتی  کی حمایت کرنے پر کوئی  شرمندگی نہیں۔ میں فخریہ پنجابی بلکہ لاہوری ہوں حالانکہ میرا آبائی گاؤں مظفرآباد ہے۔مگر میں ان تصویروں سے بالکل بھی شرمندہ نہیں ہوں۔ میں نے ہمیشہ محروم طبقوں کے لیے آواز اٹھانے کی کوشش کی ہے۔چاہے پختون بلوچ سرائیکی سندھی ہوں۔

اسی طرح شاعر ،کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف عطا الحق قاسمی اپنے ایک کالم لکھتے ہیں کہ ’’میرے ذہن میں ایک تجویز آئی اور وہ یہ کہ اس’’وی آئی پی کلچر‘‘ کا مقابلہ کسی اور طریقے سے کیوں نہ کیا جائے، مثلاً ایک کلب ہم سب مل جل کر بنائیں جس کے قواعد و ضوابط میں سوٹ یا پتلون وغیرہ پہننے والوں کا داخلہ ممنوع ہو ، اس میں داخلے کیلئے دھوتی پہنا لازمی ہو اور اگر کوئی دھوتی کے بغیر کلب میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو اس کی یہ کوشش ناکام بنادی جائے‘‘

قاسمی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ’’ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اس کا دھوتی پہننا لازمی ہو، ایسا نہ ہو کہ کسی دن وہ دھوتی پہننا بھی بھول جائے اور کلب میں داخل ہونے کی کوشش کرے۔ دھوتی پوشوں کے اس کلب کے قواعد و ضوابط میں کچھ دوسرے نازک امور کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے، مثلاً وہاں سیلنگ فین یا ٹیبل فین رکھنے کا رسک نہیں لیا جانا چاہئے کیونکہ دھوتی کیلئے ہوا مضر اخلاق سمجھی جاتی ہے اور صحیح سمجھی جاتی ہے۔ اس کی بجائے کلب کے ارکان دستی پنکھا استعمال کریںایک تو اس کی وجہ سے سیلنگ فین یا ٹیبل فین کے مضر اثرات سے ارکان محروم، سوری محفوظ رہیں گے اور دوسرے یہ اقدام وی آئی پی کلچر کے خلاف ایک عملی اور موثر احتجاج بھی ثابت ہوگا‘‘

مزید تجاویز دینے کے بعد قاسمی صاحب لکھتے ہیں کہ  گائوں کے چوپال اور شہروں میں مکانات کے تھڑوں سے بھی کلب ہی کا کام لیا جاتا ہے ،تاہم اسے ایک باقاعدہ شکل دینے میں بھی کیا حرج ہے؟  ہم ڈیفنس کلب، اسلام آباد کلب اور جم خانہ کلب والوں کو بتاسکیں کہ آپ اپنے کلب ا پنے پاس رکھیں اللہ کا دیا ہوا ہمارے پاس بھی بہت کچھ ہے اور ہاں یہ وی آئی پی لوگ منہ کا مزا بدلنے کیلئے کبھی کبھی عوامی بننے کی کوشش بھی کرتے ہیں، اگر یہ کبھی دھوتی پوش کا روپ بدل کر کلب میں داخل ہونے کی کوشش کریں تو انہیں کلب کے گیٹ ہی پر روک لیا جائے اور پورے احترام کے ساتھ ان کی دھوتی ان کے ہاتھ میں پکڑا کر واپس اپنی اصلی دنیا میں جانے کی ہدایت کی جائے۔ امید ہے کلب کے قواعد و ضوابط میں ایک شق یہ بھی رکھی جائے گی۔

دھوتی پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے،بہت کچھ لکھا جاچکا ہے لیکن جس طرح پرانے لباس جدید دور کا فیشن بن رہے ہیں اسی طرح دھوتی،کرتے اور بنیان کو بھی فیشن کے طور پر لیا جائے تو پتلون قمیض ،ٹائی میں ملبوس ’’بابوؤں‘‘کو برا نہ لگے۔