معیشت بہتر۔۔اسٹیٹ بینک نے رپورٹ جاری کر دی

Jul 16, 2021 | 22:15:PM
معیشت بہتر۔۔اسٹیٹ بینک نے رپورٹ جاری کر دی

  (24نیوز) بینک دولت پاکستان نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر تیسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال 2020-21ءجاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق نمو پذیر شواہد سے مالی سال21ء کی تیسری سہ ماہی میں معاشی بحالی کی رفتار مزید بڑھنے کا پتہ چلتا ہے۔ صنعتی شعبے خصوصاً بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) اور خدمات کے شعبے خصوصاً تھوک اور خردہ تجارت کی بحالی نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔ زرعی شعبے میں پانچ اہم فصلوں میں سے چار فصلیںگندم، چاول، مکئی اور گنے کی ریکارڈ پیداوار نے کپاس کی پیداوار میں کمی کی تلافی کر دی۔

رپورٹ کے مطابق طلب کے بلند تعدد والے اظہاریوں جیسے سیمنٹ کی مقامی ترسیلات، پیٹرولیم آئل اور لبریکینٹس اور کاروں کی فروخت، صارفی قرضے، عارضی صارفی مصنوعات (ایف ایم سی جی) اور بجلی کی پیداوار میں مزید نمو سے معاشی سرگرمی بحال ہونے کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں پورے مالی سال کی حقیقی جی ڈی پی کی نمو3.9 فیصد رہنے کا عبوری تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ مالی سال20ء میں یہ0.5 فیصد کم ہوئی تھی۔ ان موافق نتائج کو پھیلتی ہوئی وبا کے متعلق پالیسی سازوں کے فعال اقدامات سے تقویت ملی۔ مزید برآں، اسمارٹ لاک ڈاو?ن کے ذریعے وائرس پر قابو پانے کے علاوہ خسارے کو محدود رکھتے ہوئے برہدف مالیاتی اعانت، انتہائی سازگار زری پالیسی، صحت، روزگار اور نقد رقوم کے بہاو? پر پڑنے والے وبائی اثرات کم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی جانب سے فراہم کردہ بھرپور ری فنانس سہولتوں کے ساتھ ساتھ حکومت اور اسٹیٹ بینک نے گھرانوں اور کاروباری اداروں کو جو ترغیبات اور ریلیف فراہم کیا اس نے بھی معیشت کو گذشتہ برس کی کووڈ پر مبنی کسادبازاری سے نکالنے میں بحیثیت مجموعی مدد دی۔معیشت کے بھرپور طور سے بحال ہونے کے ساتھ ساتھ مالیاتی اور بیرونی شعبے کے اہم اقتصادی اظہاریوں میں استحکام اطمینان میں اضافے کا باعث ہے، کیونکہ جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے دوران جاری کھاتے اور بنیادی توازن دونوں میں فاضل رقم موجود رہی۔ بیرونی کھاتے کو کارکنوں کی ترسیلات سے نمایاں مدد ملی جو جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے دوران 4.5 ارب ڈالر اضافے کے ساتھ 21.5 ارب ڈالر کی ریکارڈ توڑ سطح پر پہنچ گئیں۔

 اس کے علاوہ بیرونی شعبے کو ایک ریلیف جی 20 کی طرف سے قرض کی واپسی معطل کرنے کے اقدام (Debt Service Suspension Initiative) سے ملا جس کے تحت بیرونی قرضے پر سودی ادائیگیوں کو معطل کیا گیا۔ نیز، بین الاقوامی فضائی سفر پر پابندیوں اور تیل کی پست عالمی قیمتوں نے بھی بیرونی شعبے کو سہارا دیا۔ دریں اثنا قرضوں کے حصول کے پہلو سے، کمرشل، دو طرفہ اور کثیر طرفہ ذرائع سے رقوم کی ا?مد کو ”روشن ڈجیٹل اکاﺅنٹ“ سے بھی سہارا ملا جس نے اپریل 2021ءمیں ایک ارب ڈالر کی سطح عبور کر لی۔ مزید بر اں، آئی ایم ایف کے دوسرے سے پانچویں تک جائزوں کی کامیاب تکمیل سے فنڈ سے 500 ملین ڈالر کے براہ راست قرضے کا راستہ کھل گیا۔ نیز، پاکستان تین سال سے زائد عرصے بعد بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹ میں اپریل 2021ء کو دوبارہ داخل ہوا۔ اس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر ا?خر مارچ 2021ء میں تین سال کی بلند ترین سطح 13.5 ارب ڈالر تک جا پہنچے، جبکہ مالی سال 04ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مالی سال کی پہلی تین سہ ماہیوں کے دوران جاری کھاتے میں فاضل رقم موجود رہی۔جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے دوران مالیاتی خسارہ 3.5 فیصد رہا جو گذشتہ سال کی اسی مدت میں 4.1 فیصد رہا تھا۔ حالیہ کمی کا سبب اخراجات کو معقول بنانا خصوصاً غیر ضروری اخراجاتِ جاریہ میں تخفیف کرنا، اور ٹیکسوں میں بڑا اضافہ ہے۔ تاہم سودی ادائیگیاں ایک بڑا بوجھ بنی رہیں، اور ترقیاتی اخراجات کے ضمن میں مالیاتی گنجائش کو محدود کرتی رہیں۔ 

 سٹیٹ بنک کے مطابق پست مالیاتی خسارے، پاکستانی روپے کی قدر بڑھنے سے بازقدرپیمائی کے فائدے اور ڈی ایس ایس ا?ئی سے ریلیف کے نتیجے میں جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے دوران قرضہ بڑھنے کی رفتار گذشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت کم رہی۔اوسط عمومی مہنگائی دونوں لحاظ سے گذشتہ سال کی نسبت کم رہی، جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے عرصے میں بھی اور مالی سال 21ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران بھی۔ تیسری سہ ماہی کے اعدادوشمار کا بنیادی سبب جنوری 2021ء میں قیمتوں کا کم ہونا ہے، جس میں غذائی گروپ اور مرغبانی گروپ کی قیمتوں میں کمی نمایاں تھی۔ تاہم بجلی، شکر، خوردنی تیل، سوتی کپڑے اور تیار ملبوسات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے فروری اور مارچ 2021ء کے دوران مہنگائی میں اضافہ کیا۔نجی شعبے کو جولائی تا مارچ مالی سال 21ء کے دوران دیا جانے والا قرضہ گذشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ تھا۔ تیسری سہ ماہی میں اگرچہ سست روی دکھائی دی، جس کی بنیادی وجہ قلیل مدتی قرضوں کی واپسی تھی۔ اس کے برعکس ، اسٹیٹ بینک کی رعایتی مالکاری اسکیموں ، جیسے عارضی اقتصادی نومالکاری سہولت (ٹی ای آر ایف)سے معین سرمایہ کاری قرضوں کا حصول جاری ر ہا۔ تیسری سہ ماہی کے دوران 426.0 ارب روپے کے قرضوں کی منظوری دی گئی ، ان میں سے 74.0 ارب روپے ٹی ای آر ایف کے تحت دیے گئے ، جو مستقبل میں سرمایہ کاری اور نمو کے لیے خوش آئند ہے۔ گذشتہ برس کے مقابلے میں زیرِ جائزہ مدت کے دوران صارفی مالکاری میں بھی خاصا اضافہ ہوا۔ گاڑیوں کے لیے اور ذاتی قرضوں کے علاوہ ، مکاناتی قرضوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو لازمی اہداف دیے ہیں کہ وہ نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں مکاناتی اور تعمیراتی قرضوں کا اپنا پورٹ فولیو دسمبر 2021ءکے آخر تک کم سے کم 5 فیصد تک بڑھائیں۔اگرچہ مالی سال 21ء کے دوران معیشت میں حوصلہ افزا بحالی دکھائی دی ، تاہم بعض ساختی کمزوریاں برقرار رہیں جو قابلِ توجہ ہیںاول ، زراعت کے شعبے میں ، کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ 

کیڑوں سے محفوظ بیجوں کی اقسام کی بروقت دستیابی اور زرعی توسیعی محکموں کی جانب سے مزید مدد ، بالخصوص آب و ہوا سے متعلق زراعت کے دانش مندانہ طریقوں کا فروغ بہتر نتائج پیدا کرسکتا ہے۔دوم ، بیرونی شعبے میں ، تجارتی سامان کے بڑھتے ہوئے خسارے کو ایک پائیدار سطح تک محدود رکھنا ضروری ہے۔ کاشتکاری اور فصلوں کے انتظام کے بہتر طریقوں کو اپنا کرزراعت میں زیادہ سے زیادہ خود کفالت حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ مناسب ذخائر برقرار رکھنے سے ایک طرف ملک میں اجناس کی قلت کو دور کیا جا سکتا ہے اور دوسری طرف قیمتوں کے عارضی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی خاطر اجناس (جیسے گندم ، گنے اور کپاس) درآمد کرنے کی ضرورت کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ پ±رتعیش صارفی اشیا کی درآمد کی حوصلہ شکنی اور قدرِ اضافی کی حامل اشیا اور برآمدی منڈیوں کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ تنوع کو فروغ دینے سے بھی مدد مل سکتی ہے۔سوم ، غذائی مہنگائی کو کم کرنے کے لئے کوششوں کی ضرورت ہے۔ یہ مہنگائی زرعی اجناس کے انتظام میں بنیادی طور پر رسد ی مسائل کی وجہ سے زور پکڑ جاتی ہے۔ خوراک کے وفاقی اور صوبائی محکموں کے درمیان بہتر رابطوں ، مستند اعداد و شمار کی فراہمی ، ذخیروں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی چوکس نگرانی اور اجناس کی بروقت درآمد سے یہ کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔چہارم ، قرض کی واپسی اور محدود محاصل کے دوہرے بوجھ کی بنا پر سرکاری شعبے کی طرف سے سرمایہ کاری کے لیے مالیاتی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ اس ضمن میں ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے ، معیشت میں دستاویزیت بڑھانے ، سرکاری مالی انتظام میں بہتری ، خسارے سے دوچار سرکاری شعبے کے کاروباری اداروں کی تنظیم نو اور بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے میں کمی لانے کی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔امید ہے کہ مالی سال 22ء کے دوران اقتصادی تحرّک میں مزید تیزی آئے گی۔ اس پر امید نقط نظر کی بنیاد ویکسین کے اجرا میں اضافہ اور کووڈ 19 کے باوجود بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمیوں کا نسبتاً بلاتعطل تسلسل ہے۔ ٹی ای آر ایف (جو صنعت کاری کے لئے طویل مدتی قرضہ فراہم کرتی ہے) ، پالیسی کے تحت تعمیرات اور مکانات کاری میں ہونے والا اضافہ ، اور سرکاری شعبے کے ترقیاتی منصوبوں (پی ایس ڈی پی) پر اخراجات میں اضافہ بھی ممکنہ طور پر نمو کے اہم عامل ہوں گے۔