فائز عیسیٰ کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست خارج

Apr 13, 2021 | 12:30:PM
فائز عیسیٰ کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست خارج
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز)سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائزعیسی کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست خارج کردی ۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ شدہ مختصر فیصلہ سنایا۔عدالت نے کہا کہ درخواست پر تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔10 میں سے 6 ججز نے براہ راست کاروائی نشتر کرنے کی مخالفت کی۔فیصلے میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور ملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس منصور علی شاہ نے لائیو کوریج کی حمایت کی۔ان 4 ججز نے رائے دی کہ آرٹیکل 19 اے کے تحت عوامی مفاد سے متعلق معلومات تک رسائی شہریوں کا بنیادی حق ہے، آرٹیکل 184/ 3 کے تحت عوام کا حق ہے کہ وہ عدالتی کارروائی براہِ راست دیکھیں۔اکثریتی فیصلہ دینے والوں میں جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس قاضی امین اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عوامی مفادات سے متعلق معلومات تک رسائی آئین کے تحت ہے، لیکن اس سے متعلق طریقہ کار انتظامی طور پر فل کورٹ طے کرے گا۔

اکثریتی فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔اختلافی نوٹ میں کیس کی براہ راست نشریات کی استدعا منظور کی گئی ہے اور کہا گیا ہےکہ  عدالتی کارروائی براہ راست نشر کرنے کے لیے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈکی جائے، عوامی دلچسپی کےکیسزکی آڈیو ریکارڈنگ ویب سائٹ پربغیر ایڈیٹ اپ لوڈکی جانی چاہیے، معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے۔عدالت نے کہا ہےکہ سپریم کورٹ معلومات تک کس انداز میں رسائی دے سکتی ہے یہ انتظامی معاملہ ہے۔

فیصلہ جاری ہونے پر جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ فیصلے تحریرکرنے اور اختلاف کرنے والے ججز کے نام جاننا چاہتا ہوں۔ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ فیصلہ پڑھیں گے تو آپ کو ناموں کا اندازہ ہوجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   فارن فنڈنگ کیس : وزیراعظم نےسپریم کورٹ سے رجوع کرلیا