کیا مقامی لوگ میڈیا پر اعتماد کرتے ہیں؟

مبشر مجید مرزا

Sep 12, 2023 | 20:01:PM
کیا مقامی لوگ میڈیا پر اعتماد کرتے ہیں؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، اس پیشے سے جڑا ہر شخص عدم تحفظ کا شکار ہے کیونکہ قوانین ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ عوام کا صحافی پر اعتماد ہونا بہت ضروری ہے۔

کیا عوام صحافیوں پر اعتماد کرتی ہے کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے کے حوالے سے ایوانوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ 

اس حوالے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی ضلعی کیبنٹ نے وہاڑی ضلع سے تعلق رکھنے والے افراد کا سروے کیا۔ جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے 230 افراد نے حصہ لیا۔ سروے کے نتائج کے مطابق تقریباً 68 فیصد افراد نے میڈیا پر اعتماد کا اظہار کیا جبکہ 32 فیصد افراد نے اپنے تاثرات سے میڈیا پر عدم اعتماد ظاہر کیا ان 68 فیصد افراد میں زیادہ تر پڑھے لکھے اور شہر کے رہائشی تھے جبکہ 32 فیصد میں زیادہ تر کم پڑھے لکھے اور دیہات میں رہنے والے افراد شامل ہیں۔ سروے میں شامل افراد کی عمریں 16 سے 60 سال تھیں۔

وہاڑی میں نجی اخبار کے نمائندہ کریم نواز بھٹی کا کہنا ہے کہ عام طور جب میڈیا پر اعتماد کی بات کی جائے تو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا نقطہ نطر مختلف ہوگا اگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کو دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کے لوگ میڈیا سے خائف نطر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ان  کی جانب سے میڈیا مخالف کمپینز بھی چلائی جاتی ہیں لیکن اگر مجموعی طور پر بات کی جائے تو میڈیا عوام کو معلومات کی فراہمی اور ان کی آواز ایوانوں میں تک پہنچانے کے حوالے سے بہت حد تک اعتماد حاصل کر چکا ہے لیکن یہ اعتماد بھی مختلف درجہ کے میڈیا پر مختلف ہے۔

سب سے زیادہ اعتماد موجودہ دور میں عوام مین سٹریم نیوز چینلز پر کرتی ہے اور پھر درجہ بدرجہ پرنٹ میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا لیکن سوشل میڈیا کے حوالے سے تاحال عوام اس تک مطمئن نظر نہیں آتے کیونکہ وہاں افواہوں کا تناسب سچی خبروں سے زیادہ ہے۔ کہیں وہ عطاءاللہ عیسی خیلوی کی موت کی جھوٹی خبر شیئر کر دیتے ہیں تو کہیں کسی عالم دین کے حادثہ کی افواہ پھیلا دی جاتی ہے۔

صحافی محمد انور گگو پریس کلب کے ممبر اور روزنامہ نیا دور ملتان کے رپورٹر تھے، چند ماہ قبل انہیں مخالفین کی جانب سے کلہاڑیوں کے وارکر کے قتل دیا گیا تھا اسی روز شام کو ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس وقت یہ مقدمہ عدالت میں زیرِ ماعت ہے۔

صحافیوں کی پیشہ ورانہ کوششوں سے معاشرے کے بہت سے چھپے ہوئے پہلو بھی سامنے آتے ہیں جیسے حالیہ دنوں سرگودھا میں ایک جج کی اہلیہ کی جانب سے کم سن بچی پر تشدد اور زخمی کیے جانے کے واقعے کو بھی ایک مقامی صحافی نے ہی رپورٹ کیا تھا جو بعد میں قومی سطح کا مدعہ بن گیا تھا۔

اس واقعے میں سرگودھا کی رہائشی  14 سالہ رضوانہ پر جو اسلام آباد میں سول جج عاصم حفیظ کے گھر گزشتہ 6 ماہ سے بطور گھریلو ملازمہ کام کر رہی تھی مبینہ طور پر سول جج کی اہلیہ کی جانب سے طلائی زیورات چرانے کے الزام میں تشدد کیا گیا۔ ناصرف تشدد کیا بلکہ اس کے زخمی ہونے کی صورت میں اس کی دیکھ بھال اور علاج نہ کیا گیا جس سے اس کے زخموں میں بری طرح انفیکشن پھیل گیا۔ میڈیا کی نشاندہی پر ڈی پی او سرگودھا نے نوٹس لیا اور بچی کو علاج کیلئے پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور بعدازاں لاہور بھجوا دیا گیا، جہاں چند روز اس کی حالت خطرناک حد تک خراب رہی لیکن اب وہ بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے پولیس اسٹیشن ہمک میں متاثرہ لڑکی کے والد منگا خان کی مدعیت میں سول جج کی اہلیہ صومیہ عاصم پر مقدمہ بھی درج ہو چکا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے ضلعی صدر محمد عرفان چوہدری بتاتے ہیں کہ گزشتہ دس برسوں میں پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے لیکن بعض ناقدین الیکٹرانک میڈیا کے رپورٹنگ کے معیار پر سوال اٹھاتے بھی دکھائی دیتے ہیں اگر بات کی جائے میڈیا پر عوام کے بھروسے کی تو بلاشبہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی ترقی عوام کے میڈیا پر بھروسے کی مرہون منت ہے۔ موجودہ دور میں معاشرتی اور معاشی مسائل کی بات ہو یا کسی مظلوم کی داد رسی کا مسلہ ہو، عوام الناس ہمیشہ مکمل بھروسے کے ساتھ میڈیا کے پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور میڈیا نہایت زمہ داری کے ساتھ مظلوم کی داد رسی کیلئے اس کی آواز اقتدار کے ایوانوں میں پہنچاتا ہے جس کے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں۔

 اس وقت سب سے بڑا مسئلہ سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ہے جس پر اکثر غیرتصدیق شدہ خبریں گردش کرتی رہتی ہیں جس سے لوگوں میں انتشار اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے، ان جھوٹی خبروں کی حقیقت جاننے کیلئے عوام ہمیشہ پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا پر ہی بھروسہ کرتی ہے، بلا شبہ بطور صحافی ہم حقائق اور سچ پر مبنی رپورٹنگ سے شہریوں کو بروقت آگاہی فراہم کرنے میں اپنا بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صحافیوں کو مناسب تربیت فراہم کرے اور ان کے تحفظ کا بندوست کرے تاکہ ریاست کا چوتھا ستون میڈیا بھی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقہ سے سرانجام دے سکے۔

وہاڑی میں الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر چوہدری احسان باری اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ آج کل جو مہنگائی، بیروزگاری کا دور ہے پورا معاشرہ ذہنی پریشانی میں مبتلا ہے، ہر شعبہ تنزلی کی جانب گامزن ہے، عام آدمی سیاست دانوں، حکومت، بیوروکریٹس سے مایوس ہوچکا ہے ایسے میں بہتری کی امید صرف میڈیا ہی ہے۔ لوگوں کے مختلف مسائل جن کا حل وہ متعلقہ اداروں سے چاہتے ہیں میڈیا کی نشاندہی کے بغیر ممکن نہیں۔ 

در حقیقت معاشرے کے جتنے بھی پسے ہوئے طبقات ہیں وہ میڈیا کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کے پاس اپنی آواز بلند کرنے کا کوئی دوسرا ذریعہ بھی نہیں۔

بلاشبہ میڈیا نمائندگان پر عوام اعتماد کرتی ہے کیونکہ جب روڈ بلاک کرکے عوام مشتعل ہوتی ہے اور پولیس دور کھڑی ان کو روکنے کی کوشش کرتی ہے اس وقت میڈیا نمائندگان ہی عوام کے پاس جا کر ان کا مؤقف اور مطالبات ریکارڈ کرتے ہیں، یہ عوام کی میڈیا پر اعتماد کی ہی مثال ہے لیکن جب کوئی صحافی اپنے حفاظتی اقدامات نظرانداز کرتا ہے تو اس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بین الاقوامی ادارے گینز ورلڈ ریکاڑد سے 20 مرتبہ سرٹیفائیڈ وہاڑی کے مقامی ایتھلیٹ حافظ محمد ارشد کا کہنا ہے کہ مجھے پاکستانی میڈیا پر حیرت ہوتی ہے کہ اچھی اور معلوماتی خبروں کے ساتھ ساتھ بے جا اور فضول واقعات کو بھی خبروں کا حصہ بنایا جاتا ہے لیکن ان جیسے بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے والوں کیلئے میڈیا کے پاس جگہ نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آسکا کہ ہمارے ملک میں میڈیا کی ترجیحات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر رپورٹرز کی اس موضوع پر باقاعدہ پیشہ وارانہ تربیت کی جانی چاہیئے کہ کون سی خبروں کو زیادہ اہمیت دینی چاہیئے۔

پنجاب پولیس کے ضلعی ترجمان عدنان طارق کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ 2018ء اور اس سے قبل میڈیا کی خبروں پر بہت زیادہ ایکشن ہوا کرتے تھے لیکن اب صورت حال یکسر مختلف ہے کیونکہ اب سائلین سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کے ذریعے پولیس افسران سے خود ہی رابطہ کر لیتے ہیں۔

سماجی تنطیم ’رہنما‘ کے مینجر ریسرچ عامر رضوی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا پر عوام کے اعتماد کی سطح گزشتہ برسوں سے بحث اور جانچ پڑتال کا موضوع رہی ہے۔ کئی عوامل اس اعتماد کو متاثر کرتے ہیں، جیسے میڈیا کی ساکھ، شفافیت، اور غیرجانبدارانہ رپورٹنگ کا تصور۔ انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کی جانب سے 2021ء میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ تقریباً 40 فیصد پاکستانیوں کا میڈیا پر کسی نہ کسی سطح پر اعتماد تھا، جبکہ تقریباً 30 فیصد نے میڈیا کے اداروں پر اعتماد کی کمی کا اظہار کیا۔ بقیہ 30 فیصد نے ملے جلے خیالات رکھے، جو اعتماد کی اعتدال پسند سطح کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ اعداد و شمار میڈیا کے اعتبار سے عوام کے درمیان مختلف آراء کی نشاندہی کرتے ہیں۔

نوٹ:یہ بلاگ ذاتی خیالات پر مبنی ہے، بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر