گھر میں ہارے شیر پردیس میں کیسے جیتیں گے؟

Oct 06, 2022 | 16:07:PM
گھر میں ہارے شیر پردیس میں کیسے جیتیں گے؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فائد قریشی)ٹی20 ورلڈ کپ کا میلہ رواں ماہ سے سجنے والا ہے اور زیادہ تر ٹیمیں اہم عالمی ٹورنامنٹ کی تیاری کے آخری مراحل میں ہیں۔ پاکستان نے ابھی انگلینڈ کے خلاف سات میچوں کی ٹی20 سیریز کا میراتھن مکمل کیا  جس میں قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اب کرائسٹ چرچ میں 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی سہ ملکی سیریز میں پاکستان کا بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے خلاف مقابلہ ہوگا۔

 سہ ملکی سیریز

اس سہ ملکی  ٹورنامنٹ میں  تینوں ٹیمیں ایک دوسرے سے دو بار مدمقابل ہونگی جس کے بعد 14 اکتوبر کو کرائسٹ چرچ کے ہیگلے اوول میں فائنل کھیلا جائے گا۔ 

  سیریز کا شیڈول:
پہلا ٹی20: بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان، 7 اکتوبر
دوسرا ٹی20: نیوزی لینڈ بمقابلہ پاکستان، 8 اکتوبر
تیسراٹی20: نیوزی لینڈ بمقابلہ بنگلہ دیش، 9 اکتوبر
چوتھا ٹی20: نیوزی لینڈ بمقابلہ پاکستان، 11 اکتوبر
پانچواں ٹی20: نیوزی لینڈ بمقابلہ بنگلہ دیش، 12 اکتوبر
چھٹا ٹی20: بنگلہ دیش بمقابلہ پاکستان، 13 اکتوبر
فائنل: 14 اکتوبر 

  سیریزشیڈول

قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے  نیوزی لینڈ میں سیریز سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے خلاف یہ میچز ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی تیاری میں معاونت کریں گے۔ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں کوئی بھی ٹیم آسان نہیں ہوتی۔نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنی ہوم کنڈیشنز میں سخت حریف ثابت ہوتی ہے۔نیوزی لینڈ کے پاس کین ولیمسین، ٹم ساؤدی اور ٹرینٹ بولٹ جیسے تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں لیکن ہمارے پاس یہ بات مثبت ہے کہ یہاں کی کنڈیشنز آسٹریلیا سے ملتی جلتی ہیں۔یہاں کی باؤنسی پچز پر کھیلنے سے ورلڈ کپ کی تیاری ہوگی۔

قومی کپتان بابر اعظم پریس کانفرنس کرتے ہوئے

 انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شکست پر قومی ٹیم کو شائقین اور ماہرین کی جانب سےخوب تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔دنیا کے تیز ترین بالرشعیب اخترنے اس بات تک کا خدشہ ظاہر کردیا کہ اگر  ٹیم ایسا ہی کھیلتی رہی تو کہیں ورلڈکپ کے پہلے راؤنڈ سے باہر ہی نہ ہوجائے۔

فاسٹ بالر شعیب اختر

جس پر  کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شکست کے بعد جو کمزوریاں ہیں ان پر کام کر رہے ہیں۔مڈل آرڈر کا پرفارم نہ کرنا پریشان کن ضرور ہے،اس پر ضرور کام کیا جا رہا ہے،کوچنگ سٹاف غلطیوں کی نشان دہی کر رہا ہے۔،آسٹریلیا میں اچھی کرکٹ کھیلنے کی کوشش کریں گے۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ صرف کہنے اور کرنے میں فرق ہے۔ حالیہ سیریز میں بچگانہ غلطیوں کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا  جس میں کپتان بابر اعظم نے خوداہم کیچز چھوڑے ۔ اگر ہماری فیلڈنگ اور بیٹنگ کی یہی صورتحال رہی تو  خدشہ ہے کہ آخر میں وہی جواب سننے کو ملے گا جو  ایشیاء کپ اور انگلینڈ سے شکست کے بعد ملا تھا۔